30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلایضر زوا لھا بعد ہ فلو کان وقتہ کفوا ثم فجر لم یفسخ [1]۔ |
بعد کفو کے زائل ہونے سے کوئی ضرر نہیں،اگر نکاح کے وقت کفو تھا پھر فاسق وفاجر ہوگیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔(ت) |
رہا دعوی نامردی وہ بھی منجانب پدر زیتون اصلا مسموع نہیں کہ اگر زیتون ہنوز نابالغہ ہے جب تو یہ دعوی دائر ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے عورت کا بالغہ ہونا شرط ہے،اور اگربالغہ ہے تو خودزیتون کا مدعیہ ہونا درکار،باپ کو دعوی کا کوئی حق نہیں، درمختار میں ہے:
|
فرق الحاکم بطلبھا لوحرۃ بالغۃ ٢[2]. |
اگر حرہ بالغہ ہو تو اس کے مطالبہ پر حاکم تفریق کردے گا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فلو صغیرۃ انتظر بلوغھا فی المجبوب والعنین لاحتمال ان ترضی بھما بحر وغیرہ [3]۔ |
اگر نابالغہ ہو تو اس کے بلوغ تك نامرد اورشرمگاہ کٹے ہوئے خاوند کے معاملہ میں انتظار کیا جائیگا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بالغہ ہونے کے بعد ا س پر راضی ہو جائے۔بحر وغیرہ۔ (ت) |
نیز درمختار وردالمحتار میں ہے:
|
طلبھا یتعلق بالجمیع ای جمیع الافعال وھی فرق واجل وبانت ح عن النھر [4]۔ |
عورت کے مطالبہ کا تعلق تما م افعال یعنی تفریق اور مہلت سے ہے،اس پر وہ بائنہ ہوجائے گی،نہر سے منقول ہے۔ (ت) |
اور اگر فرض کیا جائے کہ زیتون نے خود ہی بعد بلوغ دعوی کیا پدر زیتون وکیل ہے جب بھی ہنوز کہ رخصت تك نہ ہوئی زن وشومیں ہمبستری واقع نہ ہوئی طلب فسخ کا کوئی محل نہیں،حکم شرعی یہ ہے کہ عورت شوہر سے ہمبستر ہو،اگر شوہر اس پرقدرت نہ پائے تو اس وقت دعوی کرے جب حاکم کو ثابت ہو کہ فی الواقع اس نے قدرت نہ پائی اس کے بعد حاکم شرع شوہر کو ایك سال کامل کی مہلت دے اور اس مدت میں عورت کو اس سے جدا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع