دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

جب تك یہ حالت نہ ہو غیبت منقطعہ ہر گز نہیں،اس پر نظر کا مل رکھنا اور اصحاب اغراض کے فریبوں سے بچنا لازم،ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل(جو اپنے زمانہ کے عرف سے ناواقف ہو وہ جاہل ہے۔ت)ہاں کوئی بیوہ سن رسیدہ باختیار خود کسی سے شرعی نکاح خالی از رسوم کرلینا چاہے تو وہاں جلدی متصور،وہ اول تو ہندیوں کی عادت نہیں اور ہو بھی تو ہماری بحث سے خارج کہ یہاں کلام قاصرہ میں ہے اور قواصر کے باب میں ضرور وہی عادت،لہذا فقیر ان صُوَرِ مذکورہ بالا کے سوا یہاں غیبت منقطعہ کے حکم پر زنہار جسارت روانہیں رکھتا،یہ بعونہٖ تعالٰی فقہ انیق وحق تحقیق ہے،

وباﷲ التوفیق وھدایۃ الطریق والحمد ﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہٖ و صحبہ اجمعین اٰمین،واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔

الله تعالٰی کی مدد سے توفیق اور راستہ کی راہنمائی ہے۔

الحمدلله رب العالمین وصلی الله تعالٰی علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجعمین آمین،والله تعالٰی سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ٣٤٣:        کلکتہ دھرم تالہ اسٹریٹ ٹیپوسلطان مرسلہ حافظ محمدعظیم صاحب   ٢٤ شعبان المعظم ١٣١٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی ایك لڑکی بعمر سہ سال تھی زید نے اس کی منگنی عمرو سے کردی،بعدہ زیدکا انتقال ہوگیا،جب لڑکی تیرہ۱۳ برس کی ہوئی کوئی علامت بلوغ کی اس سے ظاہر نہیں۔زید کے پدر خاص نے لڑکی کی عدم موجودگی میں اس کا نکاح عمرو سے کردیا،چار مہینے کے بعد زید متوفی کے چچا نے لڑکی کی موجودگی میں اس کا نکاح عقد بکر سے کردیا بخیال اس کو بالغہ ٹھہرانے کے،مگر کوئی نشانی بلوغ کی آج تك لڑکی سے ظاہر نہیں،اس صورت میں شرعا کون سا نکاح معتبر ہے؟ بینوا توجروا

الجواب:

یتیمہ بالغہ کا سب سے زیادہ ولی اقرب واقدم اس کا حقیقی دادا یعنی اس کے باپ کا باپ ہے،اس کے ہوتے باپ کے چچا خواہ کسی کو کچھ اختیار نہیں ہے،اس کے دادا کا کیا ہوا نکاح کسی کے ردکئے رد نہیں ہوسکتا یہاں تك کہ اگر وہ خود بالغہ ہوکر نکاح کو رد کرے ہر گز رد نہ ہوگا،نہ ولی کے نکاح کرتے وقت نابالغہ کا موجود ہونا درکا رہے کہ نابالغ پر ولایت جد جبری ہے اور اس کاحاضر ہونانہ ہونا سب یکساں،تو اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ نابالغہ اس چار مہینے میں بالغہ ہوگئی اور باپ کے چچا نے اس کی موجودگی میں ا س کی رضا سے اس کے بالغہ ہونے پر اس کا نکاح بکر سے کردیا جب بھی یہ نکاح محض باطل ونامعتبر ہے،وہ لڑکی عمرو کی زوجہ ہے جب تك موت یا طلاق نہ ہو،دوسرے سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا،قال اﷲ تعالٰی وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ (الله تعالٰی نے فرمایا: اورآزاد پاکیزہ عورتیں۔ت)ردالمحتار میں ہے:


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن