30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹوٹیں،نہ چادریں پھٹیں،کیا کوئی پھٹ سے ہاں کہہ دیتاہے،تومقاصد علماء پر نظر شاہد عدل کہ یہاں غیبت منقطعہ وہی کہی جاسکتی ہے کہ یاتو ولی اقرب کا پتا نہ معلوم ہو آخر بے نشان کا کب تك کوئی انتظار کرے یاکسی ایسے دور دراز ملك غیر میں جہاں ڈاك پر اطمینان نہ ہو خطوط جائیں اورپتا نہ چلے،آدمی بھیجو تو صرف کثیر،دو ایسی صورتوں میں کفو کا یہ عذر ہوسکتاہے کہ کب تك بیٹھیں،اور ممکن کہ زبان نہ دو توانتظار میں وہ مد تیں گزریں کہ دوسری جگہ اس کی ٹھیك ٹھاك ہوجائے ورنہ ہندوستان بلکہ آج کل برہما میں بھی جو موجود اور پتا معلوم ہے اس کی نسبت عادۃً کوئی کفو یہ تقاضانہ کرے گا کہ ہم آٹھ دس رو زکا انتظار ہر گز نہ کریں گے کرناہے تو آج کردو،اور بالفرض کوئی زبان دینے میں جلدی بھی کرے تو یہاں کفو کی روك تھام کے لئے منگنی وہ عمدہ صیغہ ہے جس سے اس کا اطیمنان ہوجائے اور رائے ولی اقرب فوت نہ ہونے پائے۔منگنی کے بعد مدتوں دونوں طرف ساز وسامان کی درستی میں گزرتے ہیں بلکہ یہاں کے رواج سے اپنی منگیتر کو بھی من وجہ گویا اپنی ناموس جانتے اور دوسری جگہ اس کے نکاح سے برا مانتے اور اس کے انتظار میں سال گزارتے ہیں منگنی کے بعد خدا جانے کتنی بار ولی اقرب کی رائے لے سکتے ہیں اس کے جواب ملنے تك انتظار نہ ہونا کیا معنٰی،یہ عذر مصنوع وہیں پیش ہوگا جہاں اپنی اغراض فاسدہ سے ولی اقرب کے خلاف رائے بالا بالا کارروائی کرنی ہوگی جو شرع مطہر کے بالکل نقیض مراد ہے اور اس کی توسیعوں میں انھیں آفات کا دروازہ کھلنا جوابھی ہم ذکر کرآئے،شاید شاذ ونادر برخلاف عادت ملك اگر کہیں ایسی جلدی پائی جائے توا مور نادرہ مبنائے احکام فقہیہ نہیں ہوسکتے بلکہ عادت شائعہ پر حکم دینا واجب،
|
کما نصوا علیہ فی غیر مامسئلۃ منھا مسألۃ دخول النساء الحمام فی الدرالمختار وغیرہ ومنھما مسألۃ جوار الحرمین فی فتح القدیر ومنھا مسألتنا ھذہ بناء علی ماکان معتادا عندھم علی خلاف ماھو العادۃ عندنا فیہ ایضا الی غیر ذلك ممالایخفی علی من خدم کلماتھم الطیبۃ۔ |
جیسا کہ انھوں نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے،ان میں سے ایك مسئلہ حمام میں عورتوں کے داخلہ کا ہے جس کو درمختار وغیرہ میں بیان کیاہے،انہی مسائل میں سے فتح القدیر میں حرمین شریفین میں رہائش کا مسئلہ ہے،ان مسائل میں سے ایك ہمارا مسئلہ جو ان کی عادت کے مطابق تھا اور ہماری عادت کے خلاف ہے،اس کے علاوہ اور بھی ہیں جو کہ فقہاء کے کلمات طیبات پر اطلاع رکھنے والا جانتا ہے۔(ت) |
بلکہ انصافًا وہ علماء بھی جنھوں نے مسافت قصر اختیار فرمائی،اگر ریل اور ڈاك اور یہاں کے عادات ملاحظہ فرماتے ہر گز حکم نہ دیتے،بریلی کا ساکن مراد آباد تك گیا اور اس کی ولایت اپنی اولاد پر سے سلب ہوئی جس کے دن میں دو پھیرے ہوسکتے ہیں بالجملہ جب مدار کا انتظار کے سبب فوت کفو پر ٹھہرا تو اس مناط کو تحقق ضروری،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع