30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی کیا حاجت،اور اگر ہنوز نہ اس ولی نے اجازت دی نہ رد کیا تھاکہ زید آگیا تو اب وہ توقف اس ولی سے منتقل ہوکر خود زید کی اجازت پر رہے گا اگر رد کردے گا اسی وقت باطل ہوجائے گا۔
|
فی الدرالمختار وتبیین الحقائق للامام الزیلعی واللفظ لہ وعنہ فی الھندیۃ تبطل ولایۃ الابعد بمجی الاقرب لاماعقد لانہ حصل بولایۃ تامۃ [1]۔ |
درمختار اورتبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے زیلعی کی عبارت میں،اورہندیہ میں زیلعی سے منقول کہ اقرب کے واپس آنے پر ابعدکی ولایت باطل ہوجائے گی،اور ابعد کا کیاہوا نکاح باطل نہ ہوگا کیونکہ یہ اس کی کامل ولایت میں حاصل ہے۔(ت) |
تنبیہ نفیس:اقول: وبالله التوفیق،یہ تمام کلام فقیر غفرالله تعالٰی لہ نے کلمات علمائے کرام کے اس ظاہری مفاد پر مبتنی کیا کہ بادی النظر میں اذہان عامہ اس طرف جائیں اور اگرحق تحقیق وعین تدقیق چاہئے تو نگاہ مقصود وشناس جزم وقطع کے ساتھ اسی ابتدائی بات پر حکم کرے گی جسے ہم نے اولا ظاہر صورت سوال بناکر دوبارہ فرضًا اس سے تنزل کیا تھا یعنی اس غیبت کا غیبت منقطعہ نہ ہونا اور ولایت پدرکا بدستور باقی رہنا اور اگر یہ نکاح منعقد واقع ہوا تو مطلقا بلااستثناء ہر حال وہر صورت میں اجازت ولی اقرب پر توقف پانا اورا س کے رد کئے سے فورًا ردہوجانا،جب مذہب معتمد میں بناء کار اس پرٹھہری کہ ولی اقرب کے ایاب وجواب کے انتظار میں کفو فوت ہوتا اور موقع ہاتھ سے نکلا جاتا ہو کیا معلوم پھر کفو ملے یا نہیں تو یہ بات ہمارے اعصار وامصار میں کنواری لڑکیوں کے حق میں جبکہ ولی اقرب کا پتا معلوم اور وہاں تك ڈاك کی آمد ورفت بے وقت مرسوم ہو متصور نہیں،ادھر توازمنہ سابقہ میں نہ راہیں ایسی آسان تھیں نہ ڈاك کے ایسے انتظام، مدتوں میں منزلیں طے ہوتیں،خط جاتاتوآدمی لے جاتا،پھر تنہا کی گزر دشوار،نہ ہر وقت قافلے میسر نہ ہر شخص قاصد بھیجنے پر قادر،ادھر ان بلاد طیبہ میں نکاح کی یہ رسم کہ آج خطبہ ہوا کل نکاح ہوگیا،وہ ایك روز کی دیر لگی تودوسری جگہ موجود،یہاں یہ رواج کہ مہینے کی آمد ورفت پیام سلام میں کسی کا نکاح ہوگیا تو لوگ تعجب کر تے ہیں کہ ہیں جھٹ منگنی پٹ بیاہ،پھر خطوط کی آمدورفت وہ کہ تیسرے دن کلکتہ خط پہنچے چوتھے دن بمبئی،وہ کون سا جلد باز ہوگا کہ آج پیام دے او رآج ہی نکاح چاہے ایك ہفتہ کا انتظار ہو تو نکاح ہی نہ کرے یا صبح وشام دوسری جگہ نکاح ہوجائے۔ہندوستان کی لڑکیاں سہل نہیں ملتیں ایك ایك بڑھیا کے منہ سے سن لیجئے کہ میاں لڑکیاں آندھی کی بیر تو نہیں۔نہ جوتیاں
[1] فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ١/٢٨٥،تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء مطبعہ امیریہ کبرٰی مصر ٢/١٢٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع