30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے اجازت لے لی تھی یا نہیں۔اگر نہ لی تھی تو بعد وقوع نکاح قبل واپسی پدر اس نے اجازت دے دی تو بیشك یہ نکاح صحیح وتام ونافذ ہوگا کہ باپ اسے رد نہیں کرسکتا۔
|
فی الفتح القدیر لوحضر الاقرب بعد عقد الابعد لایرد عقدہ وان عادت ولایتہ بعودہ ١[1]۔ |
فتح القدیر میں ہے کہ اگر ابعد کے نکاح کردینے کے بعد اقرب آجائے تو ابعد کے نکاح کو رد نہ کرسکے گا اگرچہ اقرب کے واپس آنے پر اس کی ولایت لوٹ آئی ہے۔(ت) |
مگر یہ ولی جس نے اول یا بعد اجازت دی،اگر زینب کا دادا نہیں جیسا کہ صورت سوال سے یہی ظاہر ہے تویہ نکاح اس کی اجازت سے نافذ سہی لازم اب بھی نہ ہوا زینب کو بعد بلوغ اختیار ملے گااگر پہلے سے نکاح کی خبرہے تو بالغہ ہوتے ہی فورًا فورًا ورنہ بلوغ کے بعد جس وقت خبر ملے اسی وقت معًا اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کردے کہ اس صورت میں حاکم اس نکاح کو فسخ کردے گا اگرچہ پیش ازبلوغ زینب ہمبستری بھی واقع ہولی ہو مگر ازانجا کہ زینب دوشیزہ ہے دیر لگانے کا اختیار نہ ہوگا اگر پہلے سے خبرہے تو بالغہ ہونے پر ورنہ خبر پانے پر بلاعذر ضرورت ایك لمحہ کی دیر کرے گی تو اختیار ساقط اور نکاح لازم ہوجائے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے ناواقف ہو اور انجانی کے سبب فورًا مبادرت نہ کی ہو،درمختار میں ہے:
|
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام من کفو وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتدالٰی اٰخر المجلس وان جھلت بہ[2] اھ ملتقطا۔ |
اگر باپ دادا کے غیر نے نکاح دیا خواہ ماں ہو بشرطیکہ کفو میں اور مہر مثل سے کیا ہو تو وہ نکاح صحیح ہے لیکن لڑکی اور لڑکے کو بالغ ہونے کے بعد فسخ کا اختیار ہوگا فسخ کا اختیار لڑکی کو دخول کےباوجود بلوغ پر یا بلو غ کے بعد نکاح کے علم پر بھی ہوگا اور فسخ کے لئے قضاشرط ہے،اور باکرہ کا اس موقعہ پر خاموش رہنا اس کے اختیار کو باطل کردے گا بشرطیکہ وہ اپنے نکاح کاعلم رکھتی ہو اور عاقلہ ہو،اس کا یہ اختیار مجلس علم کے آخرتك باقی رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے جاہل ہو،اھ ملتقطًا(ت) |
اور اگر دادی سے بالاتر جوولی موجود تھا باپ کے آنے سے پہلے اس نے رد کردیا تو باطل ہوگیا باپ کو فسخ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع