30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لڑکی اٹھادے اوردعوی کرے کہ یہ کفو تھا انتظار میں فوت ہوجاتا لہذا مجھے ولایت ملی اب کہیں یہ ہوگا کہ ذی عزت آدمی معاذالله ایسے معاملات کچہری تك لے جاتے غیرت کرے اور قہر درویش برجان درویش کہہ کر خاموش رہے تو نابالغہ کو کیسا ضرر عظیم پہنچا اگر دعوی کرے توعدم کفاءت کا ثبوت دینا دشوارہو خصوصا مثل مذہب میں کہ بہت بد مذہب خصوصا روافض ایسی جگہ تقیہ کی بڑی ڈھال رکھتے ہیں توایسی اجازتوں میں کیسی آفتوں کا فتح باب ہے والعیاذ باﷲ العزیز الحکیم(عزت وحکمت والے الله کی پناہ۔ت)۔
ثالثًامذہب معتمدہ بلکہ قول مقابل پر بھی ولی اقرب کی غیبت منقطعہ میں ابعد کو ولایت دینے کا منشا صرف یہ کہ ولایت اس لئے رکھی ہے کہ اس کی رائے سے نابالغ کو نفع پہنچے اور جب وہ ایسا غائب ہے تو اس کی رائے سے نفع معدوم۔لہذا جو اس کے بعد درجہ رکھتا ہے اس کی رائے پر رکھیں گے،ہدایہ میں ہے:
|
ان ھذہ ولایۃ نظریۃ ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برأیہ ففوضناہ الی الابعد والغیبۃ المنقطعۃ ان یکون بحال یفوت الکفؤ باستطلاع رأیہ [1] اھ ملتقطا۔ |
یہ نکاح کی ولایت شفقت پر مبنی ہے تو جس کی رائے سے انتفاع نہ ہوسکے ایسے کو ولایت سونپنا شفقت نہ کہلائے گی،لہذا ہم یہ ولایت اس کے بعد والے ولی کو سونپتے ہیں،اور غیبت منقطعہ یہ ہے کہ وہ اقرب ایسی جگہ ہو کہ اس کی رائے حاصل کرنے میں کفو فوت ہوجائے۔اھ ملتقطا۔ (ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
لانظر فی التفویض الی من لاینتفع برأیہ لان التفویض الی اقرب لیس لکونہ اقرب بل لان فی الاقربیۃ زیادۃ مظنۃ للحکمۃ وھی الشفقۃ الباعثۃ علی زیادۃ اتفاق الرائی للمولیۃ فحیث لاینتفع برأیہ اصلاسلبت الی الابعد [2]۔ |
جس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو اس کوولایت سونپنا شفقت نہیں ہے کیونکہ اقرب کو ولایت اس لئے نہیں کہ وہ اقرب ہے بلکہ اس لئے کہ اقرب ہونے میں زیادہ شفقت کا پہلو ہے جو کہ لڑکی کے لئے فوائد سے اتفاق ہے،تو جہاں اس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو وہاں اسے ابعد کی طرف منتقل کیا جائے گا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع