30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوم اس جاری کرنے والے کفو کے سوااورکوئی کفو خواستگار نکاح ایسا حاضر نہ ہو جو جواب آنے تك انتظار پر راضی ہو۔
|
فانہ حینئذ لایفوتھا الکفوالخاطب بالفعل انما یفوت ان فات احد ھما ولیس فی ذلك ابطال حقھا ولاتفویت مصلحتھا حتی تسلب الولایہ من قریب شفیق الی بعید سحیق وھذا ظاھر لاسترۃ علیہ۔ |
کیونکہ اس صوت میں لڑکی کے لئے کفووالا رشتہ فوت نہ ہوگا۔ہاں دونوں میں سے کوئی ایك فوت ہوا،مگر اس سے لڑکی کا حق باطل ہوا نہ اس کی مصلحت فوت ہوئی جس کی بناپر اقرب ولی کی ولایت سلب کی جائے جو کہ نہایت شفیق ہے اور بعید غیر شفیق کو دی جائے،یہ بالکل ظاہر بات ہے۔ (ت) |
یہاں اولا زیدکا بھتیجا جس کے ساتھ تزویج زینب کا ارادہ وہ اپنے خط میں لکھ چکا ظاہرًا صریح کفو خواستگار موجودہے یہ دوسرا جس کے ساتھ نکاح کیا گیا اگر کفو بھی تھا اور اتنی دیر میں ہاتھ سے نکل جاتا تو دوسرا توموجود تھا تو وہ ضرورت جس کے لئے ولی ابعد کو اختیار ملنا متحقق نہ ہوئی،ولہذا علامہ خیر الدین رملی حاشیہ بحرالرائق مسئلہ عضل ولی اقرب میں فرماتے ہیں:
|
الولایۃ بالعضل نیابۃ انما انتقلت للقاضی لدفع الاضرار بھا ولایوجد مع ارادۃ التزویج بکفؤ غیرہ [1]۔ |
رکاوٹ کی وجہ سے ولایت قاضی کو بطور نیابت منتقل ہوتی ہے تاکہ وہ لڑکی کےضرررسانی کا دفاع کرسکے،جبکہ ایك کفو کی بجائے دوسرے کفو کو نکاح دینا لڑکی کے لئے ضرر نہیں ہے۔(ت) |
علامہ شامی حاشیہ بحر میں لکھتے ہیں:
|
ان کان الکفو الاٰخر حاضرا وامتنع الاب من تزویجھا من الاول واراد تزویجھا من الثانی لایکون عاضلا لان شفقتہ دلیل علی انہ اختار لھا الانفع [2]۔ |
اگر دوسرا کفوموجود ہے اور باپ پہلے کو نکاح نہ دے اور وہ دوسرے کو دینا چاہتاہے تو اس کو باپ کی رکاوٹ نہ کہا جائے گا کیونکہ اس کی شفقت پدری اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بچی کے لئے زیاد مفید کوپسند کرتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع