30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اجازتھما فلم ینسب الیھما ایقاعا ولانفاذ ا و اعراضھما عن اعتراضھما لایوجب ابطال حق الصغیرین کما اذالم یزاحما ظالما یتصرف فی مالھما فلیتأ مل ولیحرر [1]ھ ماکتبت۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تو ظاہر یہی ہے کہ والدین کے عدم تعرض سے خیار بلوغ ختم نہ ہوگا کیونکہ نکاح کے وقت ان کے غائب ہونے کی بناپر ان کی اجازت پر موقوف نہ تھا تو نکاح کا نفاذ ان کی طرف منسوب نہ رہا،تو اب عدم تعرض او راعتراض نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کو حاصل شدہ اختیار باطل نہ ہوگا،جیساکہ ظالم نے بچوں کے مال میں تصرف کیا اور باپ دادا نے تعرض نہ کیا ہو،اس میں غور چاہئے اور واضح کرنا چاہئے،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
سوال پنجم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سو کوس سے زائد سفر میں گیا ہے اس کے مکان پر ا س کی والدہ اور اس کی دختر زینب نامی اور اس کا پھوپھی زاد بھائی خالد موجودہیں،زید نےاپنی والدہ کو لکھا کہ زینب کانکاح بغیر میری اجازت کے نہ کرنا میں خود سفر سے آکر اپنے برادر کے پسر کے ساتھ کروں گا،مگر اس کی والدہ نے بغیر دریافت کئے زید کے اور بغیر دریافت کئے خالد کے جوموجود تھا اپنی رائے سے اپنی پوتی زینب نابالغہ کا نکاح بہت دور کے عزیزوں میں کردیا اس صورت میں زید سفر سے آنے کے بعد فسخ نکاح کراسکتا ہے یا نہیں؟ اور خالد جو بحالت عقد اپنے مکان پر موجود تھا اور اس کی رائے کے خلاف نکاح ہوگیا توآیا یہ بھی زینب نابالغہ کا نکاح فسخ کراسکتاہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
خالد تو یہاں کوئی چیز نہیں۔نہ اسے کچھ اختیار ہے کہ ابن عمۃ الاب ذوی الارحام سے ہے۔اور دادی بالاتفاق ان پر مقدم۔
|
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم لام الاب الی قولہ ثم ذوی الارحام [2]۔ |
درمختار میں ہے: نکاح میں ولی،وراثت وحجب کی ترتیب پر عصبات بنفسہٖ ہوتے ہیں،اگر عصبات نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو پھر داد ی کو ہوتی ہے،ان کا بیان ذوالارحام تك ہوا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع