30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بہ وسیأتی نصوصھما فی جواب الخامس وقواہ الزیلعی روایۃ ودرایۃ و علیہ فرع فی محیط السرخسی وذکر الشامی انہ الذی فی اکثر الکتب وقد قال فی الھدایہ والبحر ففوضناہ الی الابعد کما اذامات الاقرب [1] اھ اما علی ما استظھر فی الخانیہ والظھیریۃ والتنویر و الدر وعلیہ فرع الاسبیجابی فی شرح مختصر الطحاوی وعلیہ مشی فی البحر من انھا لاتنفی ولایتہ وانما تحدثھا لمن یلیہ فیکون کان ھنا ولیین مستویین کاخوین اوعمین فایھما عقد نفذ فالظاھر فیما ذکرنا التوقف اذالم یکن الاب اوالجد معروفا بسوء الاختیار لانہ وقع وھو مجیز فافھم۔
|
کی ہے ا ور ان کی بعض نصوص پانچویں سوال کے جواب میں آئیں گی اور اس کو زیلعی نے قوی قرار دیا،درایۃً و روایۃً اور اس پر محیط سرخسی میں تفریع قائم کی اور شامی نے کہا کہ یہی اکثر کتب میں ہے جبکہ ہدایہ اور بحر میں کہا کہ ہم یہ ولایت ہمیشہ کے لئے دوسرے مرتبہ والے کو سونپ دیں گے جیساکہ اقرب کے فوت ہوجانے پر ہوتاہے اھ،لیکن خانیہ،ظہیریہ،تنویر اور در نے جس کو ظاہر قرار دیااور شرح مختصر الطحاوی میں اسبیجابی نے جس پرتفریع قائم کی ہے اور بحر نے اس کو اپنایا،وہ یہ ہے کہ اقرب غائب کی ولایت ختم نہ ہوگی،ہاں قربت میں دوسرے مرتبہ والے کے لئے بھی ولایت ثابت ہوجائے گی،گویا یوں دو مساوی قرار پائیں گے جیسے دو بھائی یا دو چچے برابر ہوں تو دونوں کو ولایت نفاذحاصل ہوتی ہے،جو بھی عقد کرے گانافذہوگا،تو ظاہر وہی ہے جو ہم نے ذکرکیا کہ باپ یا دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو نکاح موقوف رہے گا کیونکہ یہ حضرات نکاح کو جائز کرنیوالے موجود ہیں۔غور کرو۔(ت) |
اور اگر غیبت منقطعہ تھی تو غیر کفویا غبن فاحش سے مطلقا بالکل مگر اس صورت میں کہ غائب پدرہو اور مزوج جد صحیح کہ نہ معروف بہ سوء اختیار ہو نہ اس تزویج کے وقت نشے میں کہ اس تقدیر پر یہ عقد نہ صرف صحیح ونافذبلکہ لازم ہوگا جو کسی طرح رد نہیں ہوسکتااو راگر نکاح کفو سے بے غبن فاحش ہے تو مطلقا تام ونافذ مگر ولی مزوج اگر جد ہے تو لازم بھی ہوگیا ورنہ غیر لازم کہ قاصروقاصرہ کو اگر پیش از بلوغ نکاح کی خبر ہے تو بلوغ ہوتے ہی ورنہ بعد جب خبر پائیں اختیار ملے گا کہ اس پر معترض ہو کر قاضی شرع سے نکاح فسخ کرالیں۔
|
والمسائل ظاھرۃ وفی کتب المذھب |
یہ مسائل واضح اور مذہب کی کتب میں مذکور ہیں جبکہ |
[1] الہدایہ باب الاولیاء والاکفاء مکتبہ عربیہ کراچی ٢/٢٩٩،بحر الرائق باب الاولیاء والاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣/١٢٦
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع