30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقت نکاح بالغہ ہوں توان پر ولایت مجبرہ کسی کو نہیں۔ممکن کہ حضرت ام المومنین رضی الله تعالٰی عنہا نے حضرت منذر بن زبیر رضی الله تعالٰی عنہما کی تزویج کے لئے تجویز وپسند فرمایا اور اقرب الاولیاء الحاضرین کو ان سے نکاح کردینے کا حکم کیا اور انھوں نے حسب حکم والا نکاح کردیا ہو تو نکاح ہوا تو ولی مستحق ہی کی ولایت سے،مگر حضرت کے حکم حضرت کی رائے حضرت کی تجویز سے ہونے کے باعث حضرت کی طرف منسوب ہوا ایسی نسبتیں شائع وذائع ہیں جیسے:
|
فتح الامیر الحصن وقطع السلطان اللص وغسل علی فاطمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
امیرنے قلع فتح کیا،سلطان نے چور کا ہاتھ کاٹا،علی نے فاطمہ کوغسل دیا رضی الله تعالٰی عنہما(ت) |
جب منذر بن زبیر نے حضرت عبدالرحمن کی ناراضی پاکر انھیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو تفریق کردیں حضرت عبدالرحمن نے اس پر اپنی خواہر مطہر ہ سے عرض کی ماکنت لااردامرا قضیتہ [1]مجھے نہیں پہنچتا کہ اس بات کو رد کروں جس کاآپ نے حکم فرمایا، اور اگر"انھا زوجت حفصۃ"کے معنی یہی رکھے جائیں کہ ام المومنین نے بنفس نفیس تزویج فرمائی تو ممکن کہ ولی مستحق سے ذکر فرماکر اجازت لے لی ہو،اب یہ صورت تو کیل کی ہوجائیگی بہر حال کوئی مقام شبہہ واشکال نہیں۔یہ وہ وجوہ ہیں کہ خاطر فقیر میں آئیں،او رامام مالك رحمہ الله تعالٰی عنہ نے ام المومنین کے خصائص سے شمار فرماکر بوجہ اس قرب کے جو حضرت قدسی منزلت کو حضرت پر نور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے تھا،ان کی یہ تزویج جائز رہی،زرقانی علی مؤطا للامام مالك میں ہے:
|
قال مالك فی الموازیۃ انما کان ذلك لمثل عائشۃ لمکانہا من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [2] الخ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
امام مالك نے موازیہ میں فرمایا: یہ صرف حضرت عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا کو حق تھا کیونکہ ان کو رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے خاص تعلق تھا الخ۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
سوال چہارم
اس مسئلہ میں اگر ولی ابعد نے غیر برادری میں نکاح کردیا توکیا حکم ہوگا؟
الجواب:
ولی اقرب کہ غائب ہے پدر یا جد صحیح ہے ہر ایك غیر معروف بسوء اختیار یا معروف کہ اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع