30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلیحرر [1] اھ وھو کما تری ظاھر محرر لما علمت، ولما مرمن عبارات الملتقی و الذخیرۃ وغیرھما فان مفاھیم الخلاف معتبرۃ فی عبارات العلماء بالوفاق کما نصوا علیہ بالاطباق ثم رأیت فی مجمع الانھر فلوانتظرہ الخاطب لم ینکح الابعد [2] فھٰذا عین ما فھمت وﷲ الحمد واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
جو مجھے ظاہر ہوا تو تحقیق چاہئے اھ تو یہ بیان ظاہر ہے جیسا کہ آپ معلوم کرچکے ہیں،اور ملتقٰی ذخیرہ وغیرہما کی عبارات سے گزرا،کیونکہ بالاتفاق علماء کی عبارات میں مفہوم مخالف معتبرہے،جیساکہ اس پر سب کی نص موجود ہے،اس کے بعد میں نے،مجمع الانہر میں دیکھا کہ اگر منگنی والاانتظار کرے تو ولی ابعد نکاح نہ کر دے،یہی میرا مؤقف ہے،ولله الحمد،والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
سوال سوم
یہ جو فقہاء لکھتے ہیں کہ ولی ابعد غیبت میں اقرب کے،نکاح کراسکتا ہے،یہاں ولی ابعدسے کیا مراد ہے عصبہ یا مطلق وارث؟ گوذوی الارحام میں سے ہو،اگر مراد عصبہ ہے تو حدیث عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا سے جو موطائے امام محمد کے باب الرجل بجعل امرامرأتہ بیدہا میں مخرج ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا نے اپنی بھتیجی عبدالرحمن بن ابی بکر کی بیٹی کا نکاح عبدالله بن زبیر سے کرادیا باوجود یکہ عبدالرحمن شام میں تھے،کیا جواب ہے کہ عمہ ذوی الارحام سے ہے۔
الجواب:
ابعد میں افعل التفضیل اپنے باب پر نہیں بلکہ اس سے ہر ولی بعید مراد ہے مگر نہ مطلقا بلکہ وہی جو اس ولی اقرب کے متصل ہو یعنی باقی تمام اولیاء میں کوئی اس سے اقرب نہ ہو سب اس سے نیچے ہوں یا برا بر،مثلا باپ غائب اور جد وبرادران وعم موجود ہیں تو ولایت جد کے لئے ہے،نہ برادران وعم کے واسطے،اور جد نہ ہو تو سب برادران ہمسر کو،نہ عم کو،
|
فی ردالمحتار المراد بالابعد من یلی الغائب فی القرب کماعبربہ فی کافی الحاکم وعلیہ فلو کان الغائب اباھا ولھا جدوعم فالولایۃ |
ردالمحتارمیں ہے کہ ابعد سے مراد ولی اقرب کے بعد دوسرے مرتبے والا ہے جیسا کہ اس کی تعبیر امام حاکم کی کافی میں ہے،اس بناپر اگر والد غائب کے بعد لڑکی کا دادا اور چچا دونوں موجود ہوں تو ولایت داداکو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع