30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی اختیارہ وفی البحر والاحسن الافتاء بما علیہ اکثر المشائخ [1] اھ کلام الشامی،قلت والزیلعی مع قولہ للاول علیہ الفتوی ذکر تصحیح الثانی عن شمس الائمۃ السرخسی ومحمد بن الفضل ثم قال وھذا احسن [2] اھ وقال فی جواہر الاخلاطی وعلیہ الفتوی ٣[3] کمافی الھندیۃ، ورأیتنی کتبت ھھنا علی ھامش ردالمحتار علی قول البحر الاحسن الافتاء الخ مانصہ قلت لاسیمافی ھذا الزمان فان العجلۃ الدخانیۃ قدردت مسافۃ القصر الی اکثر من مسافۃ ساعتین فکیف یبنی الامر علیھا بل وجب التعویل علی ماافتی بہ اکثر المشائخ رحمہم اﷲ تعالٰی [4] اھ ماکتبت، اقول: وشیئ اٰخر وھو ان القول الثانی بنی الامر علی الحاجۃ والتضررولاشك ان الولایۃ انما ھی للنظر ودفع الضرر فکان من الفقہ اثبات الولایۃ للذی یلی الاقرب عند کونہ بحیث لووقت الامر علی رأیہ لتضررت بہ القاصرۃ وعدمہ
|
مختار ہونے کا اشارہ ہے،اور بحر میں کہا کہ جس پر اکثر مشائخ ہوں اس پر فتوی بہتر ہے،شامی کا کلام ختم ہوا، قلت(میں کہتاہوں)زیلعی نے پہلے قول پر فتوی کہا اس کے باوجود انھوں نے شمس الائمہ سرخسی اور محمد بن فضل کی دوسرے قول پر تصحیح نقل کی،پھر کہا یہ احسن ہے اھ،اور جواہر اخلاطی میں کہا کہ اس پر فتوی ہے جیسا کہ ہندیہ میں ہے،مجھے یہاں پر ردالمحتار پر اپنا حاشیہ یاد ہے جب انھوں نے بحر کے قول کہ"اس پر فتوی ہے"الخ کو بیان کیا حاشیہ کی عبارت یہ ہے: میں کہتا ہوں کہ خصوصًا اس زمانہ میں جبکہ ریل گاڑی نے سفر کی مسافت کو ایك دوگھنٹہ کی مسافت میں تبدیل کردیا ہے تو مسافت کو بنیاد بنانا کیسے درست ہوگا،بلکہ اکثر مشائخ کے فتوی پر اعتماد ضروری ہے،میرا حاشیہ ختم ہوا،اقول ایك اور چیز ہے وہ یہ کہ دوسرے قول کی بنیاد حاجت اور نقصان پر ہے اور اس میں شك نہیں کہ ولایت کا اثبات شفقت اور دفع ضرر پر مبنی ہے،تو فقہ یہ ہوگی کہ اقرب ولی کے بعد والے کو ولایت تب ہی ہوسکتی ہے جب ولی اقرب ایسے مقام پر ہو کہ اگر اس کی رائے اور اجازت حاصل کی جائے تو نابالغہ کو نقصان ہو اور اگر نقصان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع