30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فی مجمع الانھر قال القھستانی فی جامع الرموز ھو الصحیح وبہ یفتی [1] اھ فی الدرواختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفؤ الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی وثمرۃ الخلاف فی من اختفی فی المدینۃ ھل تکون غیبۃ منقطعۃ [2] اھ قال الشامی قال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذاکان فی موضع لوانتظر حضورہ واستطلاع رأیہ فات الکفؤ الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشارفی الکتاب اھ وفی البحر عن المجتبٰی والمبسوط انہ الاصح وفی النھایۃ واختارہ اکثر المشائخ وصححہ ابن الفضل وفی الھدایہ انہ اقرب الی الفقۃ وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقہ وانہ لاتعارض بین اکثر المتاخرین واکثر المشائخ ای لان المراد من المشائخ المتقدمون وفی شرح الملتقی عن الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی اھ وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایۃ ویشیر کلام النھر |
فتوی ہے جیساکہ مجمع الانہر میں قہستانی نے جامع الرموز میں کہا: یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے اھ،درمیں ہے: اور اس کو ملتقی میں پسندیدہ قرار دیا ہے منگنی کرنے والاکفو کے جواب کا انتظار نہ کرے،اور باقانی نے اس کو معتمد قرار دیا،اور ابن کمال نے اس پر فتوی کو نقل کیا اور ثمرہ اختلاف اس شخص کے متعلق ظاہر ہوگا جو شہر میں چھپ گیا ہو،توکیا اس صورت میں غیبت منقطعہ ہوگی اھ، شامی نے کہا کہ ذخیرہ میں کہا ہے کہ اصح یہ ہے کہ اگرایسی صورت ہو کہ حاضر کفو،اس کی انتظار اور اس کی رائے معلوم کرنے تک،ضائع اورفوت ہوجانے کا خطرہ ہو تو یہ غیبۃ منقطعہ ہوگی،اور کتاب میں اسی صورت کی طرف اشارہ ہے اھ،بحر میں مجتبٰی اور مبسوط سے منقول ہے کہ یہی اصح ہے ،اور نہایہ میں ہے کہ اس کواکثر مشائخ نے اختیار کیاہے اور ابن فضل نے اس کی تصحیح کی ہے،اور ہدایہ میں ہے کہ یہ اقرب فقہ ہے،اور فتح میں کہا کہ یہ فقہ کے اشبہ ہے اور یہ کہ اکثر متاخرین اور اکثر مشائخ میں کوئی تعارض نہیں ہے،یعنی اکثر مشائخ سے مراد متقدمین ہیں،اور شرح ملتقی میں حقائق سے منقول ہے کہ اقوال میں سے یہی اصح ہے اور اس پر فتوی ہے اھ،اور اختیار اور نقایہ میں اسی پر رجحان ہے،اور نہر کی کلام میں ا س کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع