30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بیوہ نے جس سے نکاح کیا اس کے دو لڑکے زوجہ اولٰی سے ہیں، ایك دختر اس سے ہوئی، شوہر ثانی کے انتقال کے بعد بیوہ نے تیسرا خاوند کیا اور شوہر سوم نے اس دختر نابالغہ کا نکاح ایك نابالغ سے کردیا،ابتداءً قرارداد نسبت میں شوہر دوم کے دونوں لڑکوں کابھی مشورہ تھا مگر وقت نکاح یہ دونوں نہ تھے، اب یہ دونوں ا س نکاح سے رضامند ہیں۔ کیاحکم ہے۔ |
٦٣٣ |
فسخ بوجہ کفاءۃ قاضی ہی کے یہاں ہوسکتاہے۔ |
٦٣٦ |
|
زید پدر ہندہ نابالغہ کو بکر نے فریب دیاکہ خالد اس کا ہم قوم ہے زید نے خالد سے عقد کر دیا رخصت ہوئی تو معلوم ہو ا کہ خالد ولدالحرام ذلیل قوم ہے صغیر ہ اسے اپنا شوہر نہیں جانتی نہ اس کے پاس آئی گئی معاہدہ نکاح جو مرتب ہوا تھا بوقت بلوغ ا س نے فسخ کردیا کیا حکم ہے۔ |
٦٣٤ |
لڑکیاں بعدموت والدہ اپنے نانا کے زیر پرورش رہ کر بالغہ ہوئیں والد اپنے وطن میں ہے لڑکیوں کی کسی قسم کی امداد نہیں کرتا۔ نانا شادیوں کا انتظام کرتاہے تو والد مانع ہوتاہے اور خود بوجہ صرف نہیں کرتا، کیانانا ولی ہو کر نکاح کر سکتاہے۔ |
٦٣٦ |
|
کسی کو صالح جان کر کہ یہ نشہ کی چیز نہیں استعمال کرتا اس سے اپنی بیٹی کاعقد کردیا پھر معلوم ہواکہ وہ عادی ہے لڑکی نے بعد بلوغ کہہ دیاکہ میں اس نکاح سے راضی نہیں، کیا حکم ہے۔ |
٦٣٤ |
نابالغہ کا باپ فوت ہوگیا اس کے شرعی وارث موجود ہیں مگر ولی بننے سے انکار کرتے ہیں، نابالغہ کی ماں جس نے عقد ثانی کرلیا ہے وہ یا اس کا شوہر ثانی ولی بن سکتے ہیں یانہیں۔ |
٦٣٧ |
|
اپنی بیٹی کسی کے نکاح میں اسے حر اصلی جان کر دی اور وہ تھا آزاد شدہ۔ تویہ نکاح بالاتفاق باطل ہوگا۔ |
٦٣٥ |
زید کے ہندہ سے ایك دختر ہوئی پھر زید نے ہندہ کو طلاق دے دی دختر ہندہ کے پاس رہی ہندہ نے بکر سے نکاح کرلیا جب دختر تقریبا ٩سال کی ہوئی تو بکر وہندہ نے اس کا نکاح کردیا جس سے نکاح کیا وہ اسلام سے بالکل ناواقف ہے نہ روزہ رکھتا ہے نہ نماز پڑھتا ہے اب دختر پندرہ سال کی ہے نماز ر وزے کی پابند پڑھی لکھی ہے وہ اس کے یہاں رہنا نہیں چاہتی ولی اصلی زندہ ہے اس نے اجازت نکاح نہیں دی، کیاحکم ہے۔ |
٦٣٧ |
|
عدم کفاءۃبوجہ فسق وغیرفسق میں کوئی فرق نہیں۔ |
٦٣٥ |
لڑکی ١٣۔ ١٤ سالہ ہے اس کا باپ نہ تو کھانا کپڑا دیتاہے نہ لے جاتاہے بہت کچھ اسے کئی دفعہ سمجھایا مگر کوئی خیال نہ کیا۔ ماموں نے کہا یا تو تم لڑکی کی شادی کرو نہیں کرتے تو لادعوٰی ہوجاؤ جواب نہ دیا ماموں نے جب چاہا کہ شادی کردی جائے تو اس شخص نے اپنے خسر کو نوٹس دیاکہ تم لڑکی کی شادی نہ کرنا ورنہ ہم دعوٰی کریں گے۔ کیا حکم ہے۔ |
٦٣٨ |
|
فرقت عورت کی طرف سے ہو توفسخ ، مرد کی طرف سے ہو توطلاق ہے اور قضاءً سب کے لئے شرط ہے۔ |
٦٣٥ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع