30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال دوم
غیبت کی تفاسیر میں سے کہ مدت قصر یا دشواری استطلاع رائے یا ا س بلد میں قافلہ سال بھر میں ایك مرتبہ جاتا ہو،میں کون سی تفسیر معتمد علیہ ہے؟
الجواب:
اول پر بھی فتوی دیا گیا اور ثالث اختیار امام قدوری ہے اور کتاب التجنیس والمزید میں یك ماہہ راہ کو اختیار اکثر مشائخ واعدل الاقاویل فرمایا کما فی مجمع الانھر [1](جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ت) اور امام سغدی نے مفقود الخبری اختیار فرمائی، امام محمد سے ایك روایت بیس۲۰ ایك پچیس۲۵ منزل کی آئی کما فی جامع الرموز [2](جیسا کہ جامع الرموز میں ہے۔ت) تویہ سات قول ہیں جن میں اقوی واوثق ومذیل بآکد الفاظ فتیا صرف اول ودوم ہیں مگراصح التصحیحین وارجح الترجیحین وماخوذ ومعتمد علیہ یہی ہے کہ جب اس کی رائے لینے تك کفو حاضر انتظار نہ کرے اورا س پر اٹھا رکھنے میں یہ موقع ہاتھ سے جاتا ہے تو غیبت غیبت منقطعہ ہے یہاں تك کہ اگر ولی اقرب شہرہی میں روپوش ہو اور پتا نامعلوم یا رسائی نہیں اور انتظار باعث فوت کفو ہو توغیبت منقطعہ سمجھی جائے گی اور ولی بعید کو جو مراتب ولایت میں اس اقرب کے متصل ہے ولایت ہاتھ آئے گی اور اگر اقرب ہزار کوس دور ہے اور کفو حاضر نہیں یا انتظار پر راضی،تو یہ غیبت منقطعہ نہیں،ولی بعید نکاح کرے گا تو نافذ نہ ہوگا بلکہ اجازت اقرب پر موقوف رہے گا۔
|
فی تنویر الابصار للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب مسافۃ القصر [3] اھ فی رد المحتار نسبہ فی الھدایۃ لبعض المتاخرین والزیلعی لاکثر ھم قال وعلیہ الفتوی ٤[4] اھ ۶قلت وکذا قال علیہ الفتوی فی الولو الجیۃ |
تنویر الابصار میں ہے ولی اقرب سفر کی مسافت پر غائب ہو تو ولی ابعد کو نکاح کردینا جائز ہے اھ ردالمحتار میں ہے کہ ہدایہ میں اس کو بعض متاخرین کی طرف منسوب کیا ہے اور زیلعی میں اس کو اکثر کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اس پر فتوی ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں)یوں ہی ولوالجیہ میں کہا اس پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع