30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمیں ہے:بشرط القضاء للفسخ [1](اس فسخ کے لئے قضا ضروری ہے۔ت) لیکن کنواری لڑکی کو یہ اختیار اسی قدر ملتا ہے کہ اگر پہلے سے نکاح کی خبر ہے تو بالغہ ہوتے ہی یعنی جس وقت علامت بلوغ مثل حیض وغیرہ ظاہر ہو یا پندرہ برس کامل کی عمر ہوجائے فورًا بلا توقف اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کردے،اور اگر نکاح کی خبر بالغہ ہونے کے بعد ملی تو جس وقت خبر ہوئی فورًا اس وقت ناپسندی جتادے،اور اگر ذرادیر لگائی یا اس سے جدا کوئی آدھی بات کی یا کچھ چپ رہی یا بیٹھی تھی کھڑی ہوگئی یا کھڑی تھی ایك قدم اٹھالیا اس کے بعد ناراضی کا اظہار کیا تو ہر گز نہ سنا جائے گا اور نکاح لازم ہوجائے گا۔تنویر الابصارمیں ہے:
|
خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد الٰی اخر المجلس [2]۔ |
بالغہ باکرہ لڑکی کی خاموشی اس کے اختیار کو ختم کردیتی ہے جبکہ وہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو خاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك بھی اختیار نہیں رہتا بلکہ خاموش ہوجانے پر ختم ہوجاتاہے۔(ت) |
اس نابالغہ کے بارے میں اس کا دیکھ لینا ضرور ہے کہ اس نے بالغہ ہوتے ہی فورًا ناراضی ظاہر کی ہے یا ایك لمحہ دیر بھی لگائی تھی تواب اسے نکاح سے انکار حرام ہے وہ ضرور اس کی زوجہ ہے ورنہ اختیار دعوی رکھتی ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٣٧: از مراد آباد محلہ بازار دیوان متصل مکان نواب تفضل علی خاں مرسلہ حکیم برہان الحق صاحب ٢٧ ربیع الاول ١٣١٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح کردیا اس وقت عمر اس کی تخمینًا سات یا آٹھ برس کی ہوگی اور پیشتر نکاح سے لڑکی کا باپ اور چچا اور تایا قضا کرگئے تھے مگر ایك بھائی یا تایا زاد حقیقی جس کی عمر تخمینًا ٢٦،٢٧ برس اس وقت تھی اب موجود ہے مگر بوقت نکاح والدہ دختر نے اپنی ولایت سے نکاح اس لڑکی کا کردیا،شرعا یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب:
جس نابالغہ کے باپ،دادا،جوان بھائی،بھتیجا،چچا نہ ہو تو جوان بھائی چچا زاد ہی اس کے نکاح کا ولی ہے،اس کے ہوتے ماں کو اپنی دختر کے نکاح کردینے کا اختیار نہیں،فتاوی قاضی خاں میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع