30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منسوخ؟ اور بعد جدائی زوجین مہر اس کا ذمہ شوہر پر عائد ہوتا ہے یانہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
باب جو اپنے نابالغ بچے کانکاح کردے وہ مطلقا لازم ہوتاہے کہ نابالغ کو بعد بلوغ بھی اس پر اعتراض کا حق نہیں ہوتا اگرچہ نکاح غیر کفو سے یا مہر میں غبن فاحش کردے،مثلا دختر کو کسی رذیل قوم یا کسی ذلیل پیشے والے یا غلام فاسق کے نکاح میں دے یا ا س کا مہر مثل ہزار روپے ہو پانسو یا سو پر نکاح کردے یا پسر کا نکاح کسی کنیز یا ذلیل قوم یا فاسِقہ فاجرہ سے کرے لازم وناقابل فسخ ہے مگر دو صورتوں میں،ایك یہ کہ ایسا نکاح خلاف شفقت پدری کرتے وقت باپ نشے میں ہو،دوسرے یہ کہ اس سے پہلے بھی اپنے کسی بچے کے نکاح میں ایسی ہی بے شفقتی برت چکا ہو تو البتہ یہ نکاح ناجائز ہوگا،
|
فی الدرالمختار لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مھرھا وزیادۃ مھرہ اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران فزوجھا من فاسق اوشریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیئۃ لظھور سوء اختیارہ فلا تعارضہ شفقتہ المظنونۃ بحر [1] اھ وفی ردالمحتار زوج بنتہ من فاسق صح وان تحقق بذٰلك انہ سیئ الاختیار واشتھربہ عندا لناس فلو |
درمختار میں ہے: اگرنکاح کرنے والا ولی خود باپ یا دادا ہو تو اس کا کیا ہوا نکاح لازم ہوجائے گا خواہ لڑکی کا مہر انتہائی قلیل ہو یا لڑکے پرمہر بہت زیادہ مان لیا ہو یا نکاح غیر کفو میں ہو بشرطیکہ پہلے باپ دادا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنے میں معروف نہ ہوں،اور اگر وہ غلط اختیار میں معروف ہوں تو پھر بالاتفاق مذکورہ صورتوں میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔اور اگر یونہی باپ یادادا نے نشے میں ہوتے ہوئے لڑکی کا نکاح فاسق یا شرپسند یافقیر یا کسی کمینے کسبی سے کردیا تو یہ اختیار کا غلط استعمال ہوگا تو اس صورت میں باپ دادا کی منظونہ شفقت اس اقدام کو غلط قرار دینے میں آڑے نہ آئے گی اور یہ سوء اختیار کہلائے گا،بحر،اھ، اور ردالمحتارمیں ہے کہ فاسق سے بیٹی کانکاح کیا توصحیح ہوگا اگرچہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع