30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وزیادۃ بینۃ باثبات اللزوم کذا فی الشروح وعزاہ فی النھایۃ للتمرتاشی وکذا ھوفی غیر کتاب من الفقہ لکن فی الخلاصۃ عن ادب القاضی للخصاف ان بینتھا اولی ففی ھذہ الصورۃ اختلاف المشائخ ولعل وجھہ ان السکوت لما کان مماتحقق الاجازۃ بہ لم یلزم من الشھادۃ بالاجازۃ کونھا بامرزائد علی السکوت مالم یصرحوا بذٰلك کذا فی الفتح وتبعہ فی البحر واستفید منہ التوفیق بین القولین بحمل الاول علی مااذا صرح الشھود بانھا قالت اجزت اورضیت وحمل الثانی علی مااذا اشھد وا بانھا اجازت اورضیت باحتمال اجازتھا بالسکوت فافھم [1] اھ ملتقطا، وفی الھندیۃ لو اقام الزوج البینۃ انھا اجازت العقد حین اخبرت واقامت البینۃ انھا ردت
|
مساوی ہیں لیکن خاوند کی طرف سے گواہی میں نکاح کے ثبوت کے ساتھ لزوم نکاح بھی ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کو ترجیح ہوگی،شروح میں ایسے ہی بیان ہے، اوراس کو نہایہ میں تمرتاشی کی طرف منسوب کیا ہے، بہت سی کتب فقہ میں ایسے ہی ہے لیکن خلاصہ میں خصاف کی ادب القاضی سے منقول ہے کہ لڑکی کی طرف کی گواہی کو ترجیح ہوگی،تو اس طرح اس مسئلہ میں مشائخ کا اختلاف سامنے آیا ہے،ہوسکتاہے اس کی وجہ یہ ہو کہ سکوت پر لڑکی کی شہادت سے لزوم نکاح متحقق نہ ہوتا ہو لہذا یوں خاوند کی طرف سے شہادت زیادہ اثبات نہ کرسکتی ہو جب تك کہ گواہ صراحۃ اجازت کی بات نہ کریں،یوں ہی فتح میں ہے اورا س کی اتباع بحر نے کی ہے،اس سے حاصل یہ ہوا کہ دونوں قولوں میں موافقت یوں ہوگی کہ پہلے یعنی خاوند کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں کہ جب گواہوں نے تصریح کی ہو کہ لڑکی نے کہا ہے"میں اجازت دیتی ہوں __ یا راضی ہوں"اور دوسرے قول یعنی لڑکی کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں گے کہ گواہوں نے شہادت میں کہا ہو کہ"اس نے اجازت دی یا راضی ہوئی تھی"جس میں گواہوں کے سکوت کو رضا قرار دیا ہو،اس میں غور کرو،اھ ملتقطا،اور ہندیہ میں ہے اگر خاوند یہ شہادت پیش کرے کہ لڑکی کو جب نکاح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع