30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العقد وملك البضع والمرأۃ تدفعہ فکانت منکرۃ [1]۔ ثم ذکر فی البحر ذکر الحاکم الشھید فی الکافی لو ادعی احدھما ان النکاح کان فی صغرہ فالقول قولہ ولانکاح بینھما [2] اھ قلت عللھا فی الذخیرۃ بقولہ لان النکاح فی حالۃ الصغر قبل اجازۃ الولی لیس نکاحًا معنًا وذکر قبلہ ان الاختلاف لوفی الصحۃ والفساد فالقول لمدعی الصحہ بشھادۃ الظاھرولوفی اصل وجود العقد فالقول لمنکر الوجود [3]۔ ثم ان الظاھران مانحن فیہ من قبیل الاختلاف فی اصل وجود العقد لان الرد صیر الایجاب بلا قبول قولہ الا ان یبرھن ای فتترجح بینتہ لاستوائھما فی الاثبات
|
ذکر کرتے ہیں تاکہ مقام واضح ہوسکے،انھوں نے کہا قولہ کہ"لڑکی کی بات کو ترجیح ہوگی"کیونکہ خاوند لڑکی پرنکاح کے لزوم اور اپنے لئے ملك بضعہ یعنی جماع کے حق کا دعوی کرتاہے جبکہ لڑکی دفاع کرتے ہوئے انکار کرتی ہے اور وہ منکر ہے،پھر بحر میں کہا کہ حاکم شہید نے کافی میں ذکرکیا ہے کہ اگر اختلاف یہ ہے کہ لڑکے کی نابالغی میں ہوا یا نہیں،تو جس نے نابالغی میں نکاح کا دعوی کیا اس کا قول معتبر ہوگا،اور نکاح ثابت نہ ہوگا اھ ____قلت(میں کہتاہوں کہ)ذخیرہ میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ بچپن میں ولی کی اجازت سے قبل نکاح معنی درست نہیں،اور اس سے قبل ذخیرہ میں ذکر ہے کہ اگر اختلاف نکاح صحیح یافاسد ہونے میں ہوتو صحت کے مدعی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ نکاح صحیح ہوتا ہے،اور اختلاف اگر نکاح کے ہونے نہ ہونے میں ہو تو وجودنکاح کے انکار والے کی بات معتبر ہوگی،پھر بلا شبہہ ظاہر ہے ہماری بحث اصل نکاح کے وجودمیں ہے تو لڑکی کا انکار اور رد ایجاب بغیر قبول ہوگا لہذا لڑکی کی بات معتبر ہوگی قولہ"مگر یہ کہ خاوند گواہ پیش کرے"یعنی اس کی گواہی کو ترجیح ہوگی کیونکہ خاوند اورلڑکی دونوں کے گواہ اثبات میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع