دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

جبکہ جاہلہ ہو،اور تقریر سوال سے ظاہر اس کا خلاف ہے اور پیش ازبلوغ اظہار ناراضی کوئی چیز نہیں،عورت اگرا س میں فریب کرے گی اور بعد بلوغ ایك ذرا دیر بھی خاموش رہی یاکوئی اور بات کی تھی اور اب ظاہر کرے گی کہ میں نے فورًا فورًا بالغ ہوتے ہی بلاتاخیر سب میں پہلے یہی لفظ کہا تھا اور اس بنا پر فسخ کا حکم لے کر دوسرے سے نکاح کرلے گی تو ہمیشہ ہمیشہ زنا کاری کی بلا میں گرفتار رہے گی،اتنا اور بھی معلوم رہے کہ مدت کے بعد اس کا یہ دعوی کہ میں نے حیض کے آتے ہی فورًا نکاح فسخ کردیا تھا بے گواہان عادل شرعی کے ہر گز قبول نہ ہوگا کما بینہ فی ردالمحتار(جیساکہ اس کو ردالمحتار میں بیان کیا ہے۔ت)والله سبحانہ و تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٣٣٤:          از اعظم گڑھ مرسلہ خواجہ عنایت الله خاں صاحب                       ٩ ربیع الاول شریف ١٣١٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے جو اہل کفو ہندہ سے تھا ہندہ بالغہ باکرہ کانکاح بغیبت اس کے باپ کے جو صرف بارہ کوس کے فاصلہ پر اپنے علاقے پر تھا برضامندی مادر ونانی وبہ سکوت وگریہ ہندہ اپنے ساتھ بوکالت وشہادت تین اقربا خاص ہونا ظاہر کیا،زید اب کہتا ہے کہ ہندہ نے خود اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ میرے نکاح کوقبول کیا تھا۔وکیل گواہان زید حسب بیان زید شہادت دیں،ہندہ کہتی ہے میں نے ہر گز ہرگز نہ زبان سے اقرار ونہ کسی طرح منظوری اپنی ظاہرکی تھی وبلا رضامندی اپنے باپ کے مجھ کو یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے،باپ ہندہ کا نہ پہلے راضی تھا نہ اب راضی ہے،پس ایسا نکاح وشخص عندالله والرسول کیسا اور ہوایا نہیں؟ اور سوال یہ ہے کہ زید وگواہان زید ووکیل کو ترجیح ہے یا کیاصورت،کس کے مقابلہ میں کس کو ترجیح؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ نکاح مذکورہ بالا حسب اظہار ہندہ اگر بحالت سکوت وگریہ ہندہ بغیبت اس کے باپ کے حسب کیفیت نارضامندی وفاصلہ مرقومہ اس کے ہوا ہو تو ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

تقریر سوال سے واضح ہے کہ یہ نکاح بغیبت پدر ہندہ بوجہ ناراضی پدر ہندہ عمل میں آیا ایسی حالت میں ١٢ کوس کا فاصلہ کسی قول پر غیبت منقطعہ نہیں ہوسکتا،مسافت قصر نہ ہونا ظاہر،اوریہاں ولی ابعد کی تعجیل(بحالیکہ ماں یہاں ولی ابعد ہو بھی)اس وجہ سے نہیں کہ ولی اقرب سے مشورہ لینے میں دیر لگے گی اور اتنی دیر میں کفو حاضر ہاتھ سے نکل جائے گا بلکہ اس لئے کہ ولی اقرب کی رائے اپنے ارادہ کے خلاف معلوم ہے اور اس کے خلاف کام کرنا منظور توہرگز یہ صورت ناقابل ولایت بولی ابعد نہیں والاتکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض(ورنہ زمین پر فتنہ او روسیع فسادبرپا ہوگا۔ت)ایسا ہو تو شرع مطہر نے جس حکمت سے ترتیب رکھی ہے رأسًا باطل ہوجائے،ہر ولی ابعد سے ابعد ہرزن بے عقل وبے خرد کو اختیار حاصل ہوکہ پدر مہربان یا برادر شفیق ولی قریب کو دہ کوس بلکہ گھر سے باہر مسجد یا بازار ہی تك جائے اور وہ اس کے خلاف رائے جس سے چاہے نکاح کردے،یہ مقاصد شرع


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن