دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

پس صورت مستفسرہ میں بشرط کفاءت مذکورہ نکاح محمودہ جائز وتام ونافذ ولازم ہے جس پر پدر وغیرہ کسی کو حق اعتراض نہیں۔والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٣٣٣:          ٍ                از بھوند پوری ضلع ترائیں نینی تال                                 ٢٠ صفر ١٣١٤ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا نکاح خالد نابالغ سے ہوا،ہندہ اس وقت نوبرس کی تھی،ہندہ کا باپ،بھائی،چچا وغیرہ کوئی ولی سوا ماں کے نہیں۔یہ نکاح ماں کی رضامندی سے ہوا،مگر اذن ہندہ نابالغہ سے لیا اور خالد کا نکاح اس کے باپ نے کیا مگر قبول خود خالد سے کرایا گیا،بعد نکاح ہندہ نے خالد کے یہاں جانا نہ چاہا،اس بنا پر اس کے ماموں نے روك رکھا مگر پیشکار کی تنبیہ سے جو یہاں دیہات میں مثل حاکم سمجھا جاتا ہے،ہندہ پندرہ سال یا اس سے کم کی عمر میں رخصت ہوکر خالد کے یہاں گئی اور چار برس وہیں رہی،وقت نکاح ہندہ وخالد دونوں نابالغ سمجھ وال تھے نہ تو بالغ تھے نہ ناسمجھ بچے،ہندہ پندرہ برس کی عمر میں بالغ ہوئی،اب پھر اس نے اپنی ناراضی ظاہر کی اور دوسری جگہ اپنا نکاح کیا چاہتی ہے اس صو رت میں یہ اختیار اسے ہے یا نہیں؟ ہندہ کا بیان ہے کہ آج تك ہمبستری نہ ہوئی اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بوجہ نقصان آب وہوا کے ضعیف وکمزوربہت ہوتے ہیں،بینواتوجروا

الجواب:

سائل مظہر کہ خالد ہندہ کا نسب ومذہب وغیرہما میں ہرطرف کفو ہے اور مہر اس کے یہاں رواج سے زیادہ باندھا گیا لہذا نکاح صحیح ہوگیا،ہاں اس وجہ سے کہ ہندہ کا نکاح کرنے والا اس کا باپ دادا نہیں۔ہندہ کو بالغ ہوتے ہی فورًا فورًا اختیار فسخ تھا،اگر اس نے حیض آتے ہی معا ناراضی اور فسخ کی طلب گاری ظاہر کی تو نکاح فسخ کیا جائے گا۔اور اگر ذرا بھی دیر کردی تو اب نکاح لازم ہوگیا کہ ہرگز فسخ نہیں ہوسکتا۔

فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان من کفو وبمھر المثل صح ولہما خیار الفسخ بالبلوغ وبطل خیار البکربالسکوت [1] اھ ملتقطا۔

درمختار میں ہے جب نکاح کرکے دینے والا باپ دادا کا غیر ہو تو اگرچہ وہ ماں ہی کیوں نہ ہو،غیر کفو اور انتہائی قلیل مہر سے اصلا نکاح نہ ہوگا۔اور اگر کفو اور مہر مثل ہے توصحیح ہوگا لیکن لڑکے اورلڑکی کو بالغ ہونے پر فسخ کا اختیار ہوگا،اور باکرہ بالغہ کی خاموشی اس فسخ کے اختیار کو ختم کردے گی اھ ملتقطا(ت)

اسے بہت کا مل تحقیق کرنی ضرور ہے کہ معا حیض آتے ہی عورت کا مطالبہ فسخ کرنا بہت نادر ہے خصوصًا


 

 



[1] درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ١/٩٣۔١٩٢

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن