30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیبۃ منقطعۃ کما فی الخانیۃ)فلا عبرۃ لسکوتھا بل لا بدمن القول کالثیب البالغۃ اوماھو فی معناہ من فعل یدل علی الرضا [1]۔ |
رضا پر دلالت کرسکے،لیکن ولی اقرب کا قاصد یا وکیل ہو تو وہ ولی کے قائم مقام ہوتاہے لہذا ان کے اجازت طلب کرنے پر لڑکی کی خاموشی کو رضا قرار دیا جائے گا۔جیساکہ فتح میں ہے،اور وکیل کے بارے بحر میں قنیہ سے منقول ہے۔(ت) |
معہذا رسم اکثر دیار ہندیہ یوں ہے کہ وکالت واذن زید کے نام لیتے ہیں اور پڑھانے والا عمرو ہوتاہے یوں باوصف اذن صریح بھی عقد عقد فضولی رہتاہے کہ جسے اذن تھا اس نے نہ پڑھایا،
|
فی ردالمحتار عن الرحمتی عن الحموی عن کلام محمد فی الاصل ان مباشرۃ وکیل الوکیل بحضرۃ الوکیل فی النکاح لاتکون کمباشرۃ الوکیل بنفسہ بخلافہ فی البیع [2] اھ وفی وکالۃ غمز العیون عن الو لوالجیۃ ھوالصحیح [3]۔ |
ردالمحتار نے رحمتی اور انھوں نے حموی کے واسطہ سے امام محمد رحمہ الله تعالٰی کا مبسوط میں بیان کردہ کلام نقل کیاہے کہ وکیل کا وکیل،نکاح کے معاملہ میں اصل وکیل کی موجودگی میں،وکیل والاحکم نہیں پاتا،بیع کا معاملہ اس کے خلاف ہے اھ،اور غمز العیون کے باب وکالت میں ولوالجیہ سے ہے کہ یہی صحیح ہے۔(ت) |
بہر حال یہ نکاح نکاح فضولی ہوا او راجازت محمودہ پر موقوف رہا،اب بعد نکاح محمودہ کا واقعہ اگرچہ بنظر بعض تدقیقات علمیہ کہ عوام خصوصًا عورات کی بات ان پر محمول ہونی مستبعد ونامقبول مدارك فقہ ہے رد واجازت کا قطعی فیصلہ نہ کرے تاہم شك نہیں کہ اس سے ظاہر و متبادر یہی ہے کہ محمودہ نے اس نکاح کو جائز رکھا اگرچہ رضائے پدر کے لئے شوہر سے علیحدہ اور عمر بھر نماز روزے پرقانع رہنا قبول کرتی ہے مگر طلاق پر ہرگز راضی نہیں اور طلاق بآنکہ مزیل نکاح ہے خود ہی سبقت نکاح چاہتی ہے نہ کہ اس کی ناپسندی کہ بقائے نکاح کی رضامندی ہے اوراسی قدر نفاذ نکاح موقوف کے لئے کافی ہے:
|
لما مر من الدرالمختار من قولہ اوماھوفی معناہ من فعل یدل علی الرضا ٤[4]۔ |
درمختار میں اس کے قول"اور جو فعل رضاپر دلالت کرنے میں کلام جیسا ہو"کی وجہ سے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع