30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کنواری آج تك کبھی بولی ہے کہ یہ بولے گی بلکہ بالعموم سکوت علامت رضامندی ہوتی ہے مگر بااینہمہ وکیل نے بمقابلہ گواہان کے محمودہ کا نام لے کر کلمات ایجاب وقبول کو پوچھا کہ محمودہ تم کو منظورہے؟ـ محمودہ اس وقت محض ساکت رہی اور کچھ سرنگوں ہوگئی،اس طور پر دوبارہ باصرار دریافت کیا گیا تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اور زیادہ جھکی،تیسری دفعہ وکیل نے اسی طرح تقریر کی،محمودہ کی حالت وہی حالت سکوت وخاموش کی رہی،بعد اس کے وکیل گواہان باغ حامد میں آئے اور حسب اصول شرعیہ ودستور مروجہ نکاح محمودہ کا حامد کے ساتھ جماعت کثیرہ کے رو برو ہوگیا اور نکاح مکان محمودہ میں حسب دستور سب اعزہ آئے وباہم مبارك وسلامت ہوئی اور رسوم شربت نوشی کی عمل میں آئی جس پر مادروبہن ونانی محمودہ نے شادمانی کا اظہار کیا اور یہ واقعہ قبل از نماز جمعہ کے تھا اور شب میں آٹھ بجے والد محمودہ کا علاقہ سے مکان پر آگیا اور اس نے ایك شور وغل برپا کیا صبح کو تمام اعزہ کو بلاکر یہ کہا کہ یہ نکاح درست نہیں ہوا،اور کہنے لگا کہ مادر محمودہ یہ کہتی ہے کہ محمودہ کو یہ نکاح منظور نہ تھا اور وقت اعادہ الفاظ نکاح بغرض حصول رضامندی کے محمودہ نماز میں تھی او رجب وہ سجدہ سہو میں جانے لگی تو حامد نے اس کا سر پکڑلیا،آپ لوگ چلیں اور گھر میں دریافت کرلیں،اعزہ گھر میں آئے،ان کے رو برو پدر محمودہ نے مادرمحمودہ سے یہ پوچھا کہ آیا محمودہ کو یہ عقد منظور تھا یا نہیں۔وہ نماز میں تھی یا نہیں۔بجواب اس کے مادر محمودہ نے یہ کہا کہ مجھ کو منظور ہے اور سجدہ سہو کی بابت مادر محمودہ نے کہا کہ میں کچھ نہیں جانتی اگرچہ مکررسہ کرر والد محمودہ مادر محمودہ سے دیر تك سجدہ سہو کی نسبت پوچھتا رہا مگر وہ انکار کرتی رہی اگرچہ بیان والد محمودہ کا بالکل خلاف واقعہ کے تھا اور صریح بے اصل تھا،دوپہر تك والد محمودہ اس امر پر غلو کرتا رہا کہ بوجہ مشغولی نمازکے یہ نکاح نہیں ہوا،جب یہ امر بے اصل کسی طرح سے ثابت نہ ہوا کہ وقت نکاح کے محمودہ نماز میں تھی تو اس نے بعد دوپہر کے اعزہ کو جمع کرکے یہ خواہش ظاہر کی کہ علیحدہ ہوجائے،جس علیحدگی کا مطلب یہ تھا کہ طلاق ہوجائے،حامد اور اعزہ حامد نے اس علیحدگی کو منظورنہیں کیا اگرچہ عرصہ تك والد محمودہ کا اس پر اصرار تھا،محمودہ خواندہ ہے اس عرصہ میں محمودہ نے ایك رقعہ دستخطی اپنے والد کو لکھا کہ مجھے آپ کی خوشی منظور ہے مجھے سوائے نماز وروزہ کے اور کوئی چیز نہیں چاہئے مگر لفظ طلاق کا ہرگز درمیان میں نہ آنے پائے،اور انہی الفاظ کا اعادہ محمودہ نے اپنی چند ہم عمروں سے بھی کیا،صورت استمزاج ماقبل نکاح وسکوت بوقت نکاح وتحریر رقعہ بعد نکاح واظہار خیال از ہم عمران سے منظوری ورضامندی محمودہ کی اس نکاح کی نسبت بخوبی ثابت ہے اور اس وقت تك یہ نکاح محمودہ کو منظور ہے،چونکہ یہ نکاح باپ محمودہ کی غیبت میں برضامندی محمودہ ومادر محمودہ ونیز تمام خاندان فریقین ہوا ہے تو ایسی صورت میں یہ نکاح از روئے فقہ جائز ہوا یا نہیں؟ بینوا بالکتاب توجروا بالثواب۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع