30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا مجھے اختیار ہے وہ نکاح باطل ہوگیا اب ہندہ کو اختیا ر ہے جہاں مناسب دیکھے لڑکی کا نکاح کردے۔
|
فی الدرالمختار ان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب الیہ المرجع والمآب۔ |
درمختار میں ہے اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہے،والله تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب(ت) |
مسئلہ ٣٣٢: ازشہر اعظم گڑھ مرسلہ عنایت الله خاں صاحب ١٤ محرم الحرام ١٣١٤ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مسماۃ محمودہ کا نکاح حامدایك شخص ہم کفو کے ساتھ مندرجہ ذیل صورت میں ہوا ہے صرف پدر محمودہ کو یہ نکاح حامد کے ساتھ کرنا منظور نہیں تھا مگر مادر محمودہ ونیز تمام خاندان کو بہر صورت منظور تھا اس لئے یہ نکاح بہ تحریك مادر محمودہ ودیگربزرگان خاندان بغیبت پدر محمودہ کے جبکہ وہ اپنے علاقہ پر بہ فاصلہ بارہ تیرہ کو س کے تھا باعلان عام منعقد کیا گیا،چونکہ محمودہ عاقلہ بالغہ تھی اس لئے ایك روز قبل از انعقاد نکاح اس کی ہم عمر ایك کتخدا لڑکی واسطے استمزاج محمودہ کے بھیجی گئی،اس سے محمودہ نے کہا کہ یہ نکاح مجھ کو بدل منظور ہے،یہ بھی کہا کہ اس میں یہ خوبی ہے کہ میں تم اور نیز تمام اعزہ سے جد ا نہ ہوں گی اور ایك ہی جگہ رہوں گی،دوسرے روز بروز جمعہ اس کا عقد قرار پایا،ایك وکیل اور دو گواہ جس کمرہ میں محمودہ تھی واسطے دریافت رضامندی کے گئے و حسب رواج اس ملك کے سوال جواب کرکے واسطے پڑھانے نکاح کے باغ حامد میں جہاں نکاح پڑھانے والا اعزہ اور نیز شہر کے معزز وممتاز لوگ موجود تھے واپس آئے،واپس آنے پر معلوم ہوا کہ وکیل وگواہان نے محض مادر محمودہ سے رضامندی حاصل کی ہے،اس پر حاضران کی یہ رائے ہوئی کہ مسماۃ محمودہ عاقلہ بالغہ ہے اس سے پوچھنا ضروری امر ہے لہذا پھر وکیل وگواہان گھرمیں جائیں اور خاص محمودہ سے دریافت کریں،چنانچہ وکیل وگواہان ونیز چند اعزہ محمودہ کے گھر میں گئے،معلوم ہوا کہ مسماۃمحمودہ نماز صلوٰۃ التسبیح پڑھ رہی ہے،وکیل نے یہ کہا کہ محمودہ جب نماز سے فارغ ہولے تو دریافت کیا جائے،تھوڑی دیر کے بعد محمودہ نماز پڑھ چکی،ایك گواہ نے محمودہ کو بایاں سلام اور ایك عزیز نے دونوں سلام پھیرتے دیکھا اور اس جگہ قریب محمودہ کے مادر محمودہ و بہن حامد بیٹھی ہوئی تھیں،بعد فراغت نما زحسب احکام شرعیہ ایجاب وقبول کے الفاظ محمودہ سے بغرض حصول رضامندی کہے گئے تو مادر محمودہ نے حسب رواج اس ملك کے وموافق رسم شرفائے اس دیار کے کہا کہ ہاں منظور ہے اور محمودہ ساکت رہی،مگر وکیل نے کہا کہ محمودہ خود عاقلہ بالغہ ہے اس کو اپنی زبان سے ایجاب وقبول کے الفاظ کا اعادہ کرنا چاہئے،اس بات پر محمودہ نے ونیز اور لوگوں نے کہا کہ ہندوستان میں شریفوں کی کوئی لڑکی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع