30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس معاملہ کوپنچایت پر رکھیں،مسلمان پنچ بعد ثبوت بمواجہہ شوہر تفریق کردے نکاح فسخ ہوجائے گا۔
|
فان الحکم کالقاضی فی کل مالیس بحد ولاقود ولادیۃ علی عاقلۃ کما نصوا علیہ۔ |
حکم یعنی ثالث،قصاص،حدا ور عاقلہ پر دیت کے سواباقی امور میں قاضی کی طرح ہے،جیساکہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔(ت) |
اور اگر شوہر پنچایت پر راضی نہ ہو تو عورت کسی اسلامی ریاست کے شہر میں جائے جس طرح یہاں ریاست رام پور وغیرہ اور وہاں قاضی شرع کے حضور(جس کی قضا کو نواب والی ملك مسلمان نے نہ اس شہر والوں سے خاص کردیا ہو نہ سیدنا امام ابو حنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ کے مذہب پر حکم کے لئے مقید کیا ہو)استغاثہ کرے وہ بلحاظ قواعد شرعیہ تفریق کرسکتاہے،اور اگر شوہر بھی وہاں جانے پر راضی ہویا قاضی کی طلبی پر اسے جانا ضرور ہو جب تو امر آسان ہے،اب اس قاضی میں صرف اتنی شرط ہوگی کہ والی نے صرف اہل شہرکے ساتھ اسی کی قضاء کو خاص کردیا ہو جیساکہ اکثر یہی ہے کہ تخصیص نہیں کرتے۔
|
وذٰلك لما عرف ان القضاء یتخصص بکل ماخصص بہ المقلد کما فی الاشباہ والدر وغیرھما واذالم یخصص باھل البلد لم یشترط ان یکون المتدا عیان من اھل البلد١[1]کما فی ردالمحتار وغیرہ۔ و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یہ اس لئے کہ قضاء کا دائرہ قاضی کو مقرر کرنے والے کی تخصیص سے خاص ہوتاہے جیساکہ اشباہ،درمختار وغیر ہ کتب میں مذکور ہے،اور جب قاضی کا دائرہ کسی خاص علاقہ سے مخصوص نہ ہو تو دعوی کے فریقین کااہل بلد سے ہونا شرط نہیں ہے،جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ٣٣٠: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ کے باہم شادی بولایت پدارن عالم نابالغی زوجین میں ہوئی،بعد ایك عرصہ کے زید نابینا ہوگیا اور ہنوز وہ دونوں نابالغ ہیں اور پدر ہندہ نے وفات پائی اب مادروعم ہندہ اسے رخصت کرنا نہیں چاہتے اور کہتے ہیں ہم اپنی بیٹی زید کو نہیں دیں گے اس صورت میں ماں کے انکار سے اس نکاح میں خلل آیا یا نہیں؟ اور ماں اور چچا کو فسخ کا اختیارحاصل ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں نکاح مذکور بحالہ باقی ہے اورا م وعم ہندہ بلکہ کسی کے انکار سے اس میں خلل نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع