30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
زماننا انہ یکون کفوا بل فی زماننا یتحملھا عن ابنہ الکبیر الذی فی حجرہ والظاھر انہ یکون کفوا بذلك لان المقصود حصول النفقۃ من جھۃ الزوج بملك اوکسب او غیرہ ویؤیدہ ان المتبادر من کلام الھدایۃ وغیرھاان الکلام فی مطلق الزوج صغیرا کان اوکبیرا [1] الخ۔ |
ہوسکے گا ہمارے زمانے میں تو لوگ اپنے اس رہنے والے بالغ بیٹے کی طرف سے بھی نفقہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔تو اس صورت میں کفو ہونا ظاہر ہے کیونکہ مقصد تو لڑکے کی طرف سے بیوی کے لئے نفقہ کا حصول ہے مالك ہونے یا کا سب یا کسی اورطریقہ سے نفقہ حاصل ہو،اور اس بات کی تائید ہدایہ کے کلام سے متبادر ہوتی ہے کہ انھوں نے مطلق خاوند کی بات کی ہے خواہ نابالغ ہو یابالغ ہو الخ (ت) |
ہاں اگر دخترکے مہر مثل میں کمی فاحش کی گئی ہے تو باپ کو اس پر اعتراض پہنچتا ہے جس کا حاصل اس قدر کہ مہر مثل پور اکرالیا جائے،اورپورا نہ کرے تو قاضی نکاح فسخ کردے،نہ یہ کہ خواہ مخواہ نکاح رد ہوجائے،درمختار میں ہے:
|
لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مھر مثلھا اویفرق القاضی بینھما دفعا للعار [2]۔ |
اگر بالغہ نے اپنے نکاح میں مہر مثل سے کم مہر منظور کیا تو ولی عصبہ کو اعتراض کا حق ہے تا وقتیکہ لڑکی اپنا مہر مثل پورا کرائے یا پھر قاضی ولی کی عار کو ختم کرنے کے لئے نکاح فسخ کرے۔(ت) |
البتہ اگر امور مذکورہ بالاسے کسی امر میں ایسا بھی ہے جس کے باعث وہ شرعا کفو نہ ٹھہرے،اور باپ نے اس پر مطلع ہوکر اپنی رضامندی ظاہر نہ کردی تھی تو بیشک،یہ نکاح سرے سے باطل ہوا کہ اب باپ کی رضامندی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا،اس تقدیر پر فرض ہے کہ مرد عورت فورا جدا ہوجائیں اور اس نکاح کو ترك کردیں،پھر اگر چاہیں تو بعد اجازت صریحہ پدر از سرنو نکاح کرلیں،والله سبحنہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٢٦: ٢٨ شعبان ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ ا س کے باپ،دادا،بھائی،بھتیجا کوئی نہیں حقیقی چچا ہیں،چچا کا نابالغ لڑکا ہے،اگر یہ ولی جائز اپنی بھتیجی نابالغہ کا اپنے پسر نابالغ سے بولایت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع