30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولایت جبری نہیں۔حضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الایم احق بنفسھا من ولیھا[1] رواہ الستۃ الا البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ |
بالغہ عورت ولی کی بنسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے،اس کو امام بخاری کے سوا ائمہ ستہ نے بروایت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما ذکر کیا۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ٢[2]۔ |
بالغہ باکرہ لڑکی کونکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر اس پر جبر کی ولایت کسی کو حاصل نہ رہی،(ت) |
صورت مذکورہ میں جبکہ لڑکی بالغہ ہے تو اس کا نکاح بے اس کے اپنے اذن کے نہ ماں کے کئے نافذ ہوسکے نہ باپ کے ہاں،جس عورت بالغہ کا ولی موجود ہو وہ غیر کفو سے اپنانکاح نہ خود کرسکتی ہے نہ دوسرے کو اذن دے سکتی ہے جب تك ولی اس شخص کے غیر کفو ہونے پر مطلع ہوکر پیش از نکاح بالتصریح اپنی رضامندی ظاہر نہ کردے،ورنہ نکاح محض باطل ہوگا کہ پھر رضائے ولی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ درمختار میں ہے:
|
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ[3] اھ ملخصا۔ |
ولی کی رضا کے بغیر حرہ عاقلہ بالغہ کا اپنی مرضی سے نکاح نافذ ہوتا ہے اور غیر کفو میں ولی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح جائز ہونے پر فتوی ہے جبکہ ولی غیر کفو میں ہونے کا علم حاصل کرچکا ہو اھ ملخصًا(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلایفید الرضی بعدہ بحر [4]۔ |
یہ اس صورت میں ہے جب لڑکی کا کوئی ولی ہو اور نکاح سے قبل وہ اس پر راضی نہ ہو تو نکاح کے بعد ولی کی رضا مفید نہ ہوگی،بحر۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع