30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے:
|
ولایۃ النکاح الی العصبات اقرب الی الصغیر والصغیرۃ الاب ثم الجد ثم الاخ لاب وام ثم الاخ لاب ثم بنوھما علی ھذا الترتیب وان سفلوا ثم العم لاب وام١[1] اھ ملخصا۔ |
نکاح کی ولایت عصبات کو ہے اور نابالغ لڑکے اور لڑکی کے قریب ترین عصبات والد پھر دادا،حقیقی بھائی،پھر باپ کی طرف سے بھائی،پھر ان دونوں کے لڑکوں کو اس ترتیب سے نیچے تک،پھر حقیقی چچا کو،اھ ملخصا(ت) |
درمختار میں ہے:
|
فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام(وعد درجات الی ان قال)ثم الخالات [2]۔ |
اگر عصبہ نہ ہوتو ماں کو ولایت ہے،اور ولایت کے درجات متعددہ کو بیان کرنے کے بعد انھوں نے کہا پھر خالاؤں کو ولایت ہوگی۔(ت) |
پس چچا کے ہوتے جو نکاح خالہ کردے چچا کی اجازت پر موقوف ہے،اگر جائز رکھے جائز اور اگر رد کردے تو باطل ہوجائے درمختار میں ہے:
|
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ |
اگر قریبی ولی کے ہوتے ہوئے بعید ولی نے نکاح کردیا تو قریب ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔الله تعالٰی اعلم ہے اور اس کا علم اتم اور محکم ہے۔(ت) |
مسئلہ ٣٢٥: از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملك زادگان مرسلہ مرزا حامد حسن صاحب ٢٥ ربیع الآخر ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نوجوان بالغ لڑکی ناکتخدا کا نکاح ا س کی ماں نے عدم موجودگی پدر میں اپنے عزیز واقارب کو جمع کرکے اپنے بھانجے کے ساتھ کردیا،باپ بھی اس لڑکے کو جانتا ہے اوراس پر راضی بھی تھا مگر یہ کہتا تھاکہ جب تك یہ نوکر نہ ہو مت کرنا،اس صورت میں نکاح شرعا درست ہوا یا نہیں؟ اور ماں کوبہ موجودگی باپ کے اولاد پر ایسا اختیارہے یا نہیں؟
الجواب:
نابالغ اولاد باپ کے ہوتے ماں کے لئے ایسا اختیار اصلا نہیں۔اور بالغ اولاد پر ماں باپ کسی کے لئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع