30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسا نہیں خواہ یوں کہ سرے سے کوئی مرد رہا ہی نہیں یا جو ہے وہ مجنون یا رفض وغیرہ بدمذہبوں میں حد کفر تك پہنچا ہوا ہے،تو اس وقت اشخاص مذکورین سوال میں ولایت نکاح نانی کو ہے،وہ نہ رہے تو نانا کو،وہ نہ رہے تو بہن کو،اور ان سب میں بھی عقل واسلام کی شرط ضرور ہوگی یعنی اگر مذہب میں فساد ہو تو حد کفر تك نہ پہنچا ہو ورنہ مرتد کو کسی پر ولایت نہیں اگرچہ دعوی اسلام رکھتا ہو،
|
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلا توسط انثی علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف واسلام فی حق مسلمۃ وولد مسلم فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ثم لام الاب ثم للجد الفاسد ثم للاخت [1] الخ اھ ملخصا، وفی ردالمحتار صرح فی الجوھرۃ بتقدیم الجدۃ علی الاخت،ونقل ذٰلك الشرنبلالی عن شرح النقایۃ للعلامۃ قاسم قال ولم یقید الجدۃ بکونھا لام اولاب اھ،وفیہ عن الخیریۃ ان الجدۃ لاب اولی من الجدۃ لام قولا واحد افتحصل بعد الام ام الاب ثم ام الام ثم الجد الفاسد تامل اھ قال وما جزم بہ الرملی افتی بہ فی الحامدیۃ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے نکاح میں عصبہ بنفسہٖ یعنی وہ مرد جس کی نسبت میں عورت واسطہ نہ بنے،وراثت وحجب کی ترتیب پر ولی بنتے ہیں بشرطیکہ یہ حر،مکلف اور مسلمان ہوں جبکہ ان کی ولایت مسلمان لڑکی یا لڑکے کے لئے ہو،اوراگر عصبات بنفسہا نہ ہوں پھر والدہ کو،پھر دادی کو،پھر نانے کو،پھر اخت کو ولایت ہوگی الخ اھ ملخصا،اور ر دالمحتار میں ہے کہ جوہرہ میں جدہ کو بہن پر متقدم کرنے کی صراحت کی ہے،شرنبلالی نے اس کو علامہ قاسم کی شرح نقایہ سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ جدہ کو سگی کی قید سے مقید نہیں کرسکتے اھ،اوراسی میں فتاوی خیریہ سے منقول ہے کہ دادی کا نانی سے مقدم ہونا ایك ہی قول ہے تو حاصل یہ ہوا کہ والدہ کے بعد دادی اور پھر نانی پھر نانا،غورکرو اھ،اورکہا کہ جس پر رملی نے خیریہ میں جزم کیا ہے اسی پر حامدیہ میں فتوی دیا ہے،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٢٣: از کلکتہ اسٹریٹ ١٦٢ دھرم تلا مرسلہ حافظ عزیزالرحمن صاحب ٤ ذی الحجہ ١٣١١ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ کا نکاح اس کے ماموں نے درصورت نہ ہونے والدہ اور چچا اور برادر اور دادا اس لڑکی کے بہ موجودگی والدہ کے کردیا تھا اب اس نے بحالت بلوغ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع