30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سلطان ولاقاض لعدم من یقدر علی الامضاء حالۃ العقدفوقع باطلا [1] اھ ملخصا بے قرابت بمجرد پرورش ولایت نکاح ثابت نہ شود فی جامع الصغار من یتولی صغیرا اوصغیرۃ لایملك تزویجھما [2]۔پس دریں صورت اجازت و عدم اجازت زید چیزے نیست،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جیساکہ کسی فضولی نے نابالغہ یتیم لڑکی کا نکاح دارالحرب میں کردیا،یا وہاں کہ جہاں کوئی سلطان وقاضی نہ ہو توایسی صورت میں نکاح باطل ہوجائے گا کیونکہ وہاں کوئی جائز کرنے والا نہیں ہے اھ ملخصا،زید کو محض پرورش کی وجہ سے ولایت حاصل نہ ہوگی،جامع الصغار میں ہے کہ کسی بچے یا بچی کی کفالت کرنے والا اس کے نکاح کا ولی نہیں بن سکتا لہذا مذکورہ صورت میں زید کی اجازت وعدم اجازت کوئی معنی نہیں رکھتی،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٢٢: از قاضی باڑی ضلع ہردوئی،ڈاکخانہ شاہ آباد مرسلہ حضرت سید امیر حیدر صاحب ٢٦ شعبان ١٣١١ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ سید سجاد حسین مرحوم نے چار لڑکیاں اور ایك زوجہ چھوڑکر انتقال کیا بعد چند عرصہ کے ایك لڑکی فوت ہوگئی،بعدا س کے زوجہ نےانتقال کیا،تین لڑکیاں دو منسوبہ اور ایك نابالغہ چھوڑی،بعد دو سہ ماہ کے دختر کلاں نے بھی انتقال کیا،اب لڑکی نابالغ کے نکاح کی اجازت بموجب شرع شریف کے فوقیت ہمشیرہ حقیقی کوہے یا نانی ناناکو حاصل ہے فقط۔
الجواب:
اس نابالغہ کے دادا پر دادا یا ان کے باپ دادا پردادا کی اولاد پسری میں کوئی مسلمان عاقل بالغ مرد باقی ہے تو اس کے نکاح کی ولایت اسی کو ہے،اُس کے ہوتے نانا نانی بہن بلکہ ماں بھی کوئی چیز نہیں اورا س طرح کے مرد متعدد ہیں،تو ان میں جو قریب تر ہوگا یعنی جوا س نابالغہ کے نسب میں بہ نسبت دوسروں کے کم واسطوں سے ملے گا وہی ولایت پائے گا،اور جو برابر درجے کے ہیں وہ ہر ایك ولی ٹھہرے گا،مثلا ہندہ بنت زیدبن خالد ہے اور سعید ورشید پسران حمید بن حامد بن خالد اور باقرابن جعفر بن احمد بن حامد اور کبیر صغیر منیر پسران طاہرین مطہر بن حامد مذکور ہیں توولایت نکاح ہندہ سعید ورشید دونوں کویکساں ہے اور ان کے ہوتے باقر وکبیر ومنیر کو استحقاق نہیں،ہاں اگر دُدھیال میں کوئی مرد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع