30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
گردد،واگر باہندہ ہیچ کس را از زندگان وقت نکاح قرابت نسبی نبودند زید نہ غیر اوراآنگاہ دردیار ماکہ زیرولایت ہیچ قاضی شرع وحاکم اسلام نیست نظرکردن ست اگر دراں شہر عالمے از علمائے دین کہ فقیہ وصاحب فتوی واعلم علمائے بلدباشد موجودست پس نکاح مذکور براجازت اوموقوف ست اگر اجازت دہد نافذ شود واگرردکند باطل کردد۔ فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ اذا خلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم ١[1] واگر آنجا ہمچو عالمے نیز نباشد آنگاہ ایں نکاح اصلا انعقاد نہ یافت خود باطل محض ست لکونہ عقد فضولی صدر ولامجیز فی جامع الصغار ان کان فی موضع لایکون تحت ولایۃ قاض فانہ لاینعقد [2]اھوفی ردالمحتار عن الفتح ما لامجیز لہ ای مالیس لہ من یقدر علی الاجازۃ یبطل کما اذا زوجہ الفضولی مجیزہ یتیمۃ فی دارالحرب اواذالم یکن |
زندہ لوگوں میں سے نسبی ولی نہیں،نہ زید ہے نہ کوئی اور ہے،تو ایسی صورت میں جبکہ ہمارے ملك میں کوئی قاضی یا شرعی حاکم سرکاری طورپر مقرر نہیں ہے،اگر اس شہر میں کوئی ایسا عالم جو مفتی،فقیہ اور علاقہ کا بڑا عالم ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگاکہ وہ اگر جائز کردے تو جائز اور اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا،حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے منقول ہے کہ جب زمانہ شرعی طورپر امور کو سرانجام دینے والے حاکم وقاضی سے خالی ہوتو یہ امور علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہوگا کہ وہ ان علماء کی طرف رجوع کریں اور یہ علماء والی بن جائیں گے،اور اگر ایك عالم کی طرف سب کو رجوع مشکل ہو توہر علاقہ کے لوگ اپنے علاقہ کے عالم کی طرف رجوع کریں گے اور کسی علاقہ میں ایسے علماء کی تعداد زیادہ ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں گے،اور اگر وہاں کوئی ایساعالم نہ ہو توپھر یہ نکاح اصلا منعقد نہ ہوگا اور خود بخود باطل ہوجائے گا کیونکہ یہ فضولی کا ایسا نکاح ہوگا جسے کوئی بھی جائز کرنے والا نہ ہے،جامع الصغار میں ہے کہ اگر ایسی جگہ ہو کہ وہاں کوئی سرکاری شرعی حاکم نہ ہو تونکاح منعقدنہ ہوگا اھ،اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کہ جہاں کوئی ایسا حاکم مجاز نہ ہوجو نکاح جائز کرسکے تو نکاح باطل ہوگا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع