30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
زید نکاح ہندہ خورد سالہ درست ست یا نہ،بیان فرمایند بعبارت کتب،ورحمۃ الله علیکم اجمعین۔ |
کے نکاح کو ناپسند کیا اور راضی نہ ہوا،تو کیا مـذکورہ صورت میں ہندہ نابالغہ کا نکاح زید کی مرضی کے خلاف درست ہو ا یا نہیں؟ کتب کے حوالہ سے جواب دیا جائے۔الله تعالٰی تم پر رحم فرمائے۔(ت) |
الجواب:
|
اولا دیدہ باید کہ شخصے کہ زن زید ہندہ رابحبالہ نکاحش داد باہندہ کفایت دارد یانے،اگر ندارد مثلا در نسب یا حرفہ یاروش یا مذہب قصورے دارد کہ ہندہ رادرنکاحش آمدن نزد اہل عرف موجب عار باشد آنگاہ ایں نکاح باطل محض افتد کہ باجازت ہیچ کس روئے نفاذ نہ بیند تاآنکہ ہندہ اگر خویشتن بعد رسیدن اجازت کند ہم روئے نیابد زیرا کہ تزویج باغیر کفو جز پدر یا پدر پدر کہ دریں کاربسوء اختیار معروف نباشد ہیچ کس رانمی رسد کما نصوا علیہ قاطبۃ وفی جامع الصغار ولی غیر الاب والجدزوج الصغیرۃ من غیر کفوء فادرکت الصبیۃ فاجازت لایجوز [1]۔ واگر کفاءت داردآنگاہ دیدنی ست کہ ہندہ ہنگام نکاح ہیچ قریبے قریب یا بعید مردیازن از جانب پدریا مادر اگرچہ درغایت بعد ودوری می داشت یا نے،اگر می داشت پس ہماں کس ولی نکاح اوست نکاح مذکور براجازت آں ولی موقوف ست خودایں زید باشد یادیگرے اگر اجازت دہد جائز شود اگرردکند باطل |
پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ زید کی بیوی نے جس شخص سے ہندہ کانکاح کیا ہے وہ ہندہ کا ہم کفو ہے یا نہیں۔اگر نہیں مثلا نسب،کردار،حرفہ یا مذہب میں ایسی کمی والا ہے کہ عرف میں اس کوعار سمجھا جاتاہے تو اس صورت میں یہ نکاح محض باطل ہے اور کسی کی اجازت حتی کہ ہندہ خود بالغ ہونے پر اس کو جائزنہیں کرسکتی،کیونکہ غیرکفو میں نابالغہ کانکاح کرنے کی ایسے باپ دادا جو سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں،کے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہے،جیسا کہ تمام فقہائے تصریح کی ہے جامع صغار میں ہے باپ دادا کے غیر کسی ولی نے نابالغہ کا نکاح غیر کفو میں کردیا ہو تو لڑکی بالغ ہوکر خود بھی اس نکاح جائز نہیں کرسکتی،اوراگر وہ شخص ہندہ کا ہم کفو تھا پھریہ دیکھنا ہوگا کہ ہندہ کا کوئی رشتہ دار مردیا عورت قریب یا بعید جو کہ کسی کی ولایت رکھتا ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگا۔وہ جائز قرار دے تو جائز اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا۔وہ ولی زید ہو یا کوئی اورہو، اور اگر ہندہ کا کوئی بھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع