30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی اختیارہ وفی البحر والاحسن الافتاء بماعلیہ اکثر المشائخ[1] اھ مافی ردالمحتار قلت لاسیما فی ھذا الزمان فان العجلۃ الدخانیۃ قد جعلت مسافۃ القصر کمسافۃ ساعۃ واحدۃ بل اقل فوجب التعویل علی ما افتی بہ اکثرالمشائخ۔ |
اس کے مختار ہونے کی طرف اشارہ ہے،اور بحر میں ہے کہ جس پر مشائخ کا اعتمادہو اس پر فتوی باعث اطمینا ن ہے،درمختارکی عبارت ختم ہوئی،قلت خصوصا موجودہ زمانہ میں کہ جب ریل گاڑی نے مسافت قصر کوایك گھنٹہ کی مسافت بنادیا ہے بلکہ اس سے بھی کم کردیاہے لہذا جس پر اکثر مشائخ نے فتوی دیاہے یہی قابل اعتماد ہے۔ (ت) |
یہ سب اس صورت میں کہ عورت کے مہرمثل میں کمی فاحش نہ ہوئی ہو مثلا مہر مثل سور وپے کا تھا ا س نکاح میں پچاس کا باندھا تو سر ے سے نکاح ہی نہ ہوا۔
|
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیرالاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح بغبن فاحش [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختارمیں ہے اگر نکاح کرنے والا باپ دادا کا غیر کفو ہو خواہ ماں ہی کیوں نہ ہو مہر میں فحش کمی کے ساتھ نکاح صحیح نہ ہوگا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٢١: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب ١٥ شعبان ١٣١١ھ
|
چہ می فرمایند علمائے اہل سنت وجماعت دریں مسئلہ کہ مسماۃ ہندہ ورثہ شرعیہ ندارد ونہ ازنطفہ زید مگر زید بسعی تام از ایام طفلی پرروش کردہ تابعمر دہ سالہ دررسیدہ و بہ سبب اطلاق پرورش زید ولی ہندہ ظاہر بعد زید منکوحہ زید نکاح ہندہ بہمراہ خیراتی خاں کردہ فرارشد وقتیکہ زید آمد برنکاحش وقوف یافتہ راضی نہ گشت درین صورت بدون اجازت |
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ نامی لڑکی جو زید کی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی شرعی وارث ہے لیکن زید نے اس کی بچپن سے دس سال کی عمر تك پرورش کی۔اس پرورش کی وجہ سے زید ہندہ کا ولی معلوم ہوتا ہے تو زید کی عدم موجودگی میں زید کی بیوی نے ہندہ کا نکاح خیراتی خاں سے کردیا،اور خیراتی خاں اس کے بعد بھاگ گیا،اب جب زید واپس آیا تو اس نے ہندہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع