30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالغ ہوئی وہ اپنے باپ کے فعل کو ناپسند کرتی ہے،باپ کی ولایت سے نکاح جائز ہے یا ناجائز ہے؟ فقط
الجواب:
صورت مسئولہ میں حق جواب یہ ہے کہ باپ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح جس شخص سے کیا اگر وہ کفو یعنی دین و نسب وپیشہ ومال وغیرہ میں کوئی امرایسا نہیں رکھتا کہ اس سے تزویج باعث عارہو نہ دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو تو وہ نکاح مطلقا صحیح نافذ ولازم ہے اگرچہ ناپسند کرے اگرچہ باپ اس سے پہلے معروف بسوئے اختیار ہوکہ اس نکاح میں اس کا حسن اختیار ظاہر تو پہلے کے سوء اختیار اس کی صحت میں مخل نہیں ہو سکتے یوں ہی اگر باپ وقت تزویج نشہ میں نہ تھا نہ اس سے پیشتر اپنی کسی قاصرہ کا نکاح غیر کفو سے اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش پر کرکے معروف بسوء اختیار ہوچکا تو بھی یہ نکاح صحیح ولازم اگرچہ غیر کفو سے ہو اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو،ہاں اگر دونوں امر مجتمع ہیں یعنی اس نکاح میں کفاءت بمعنی مذکور نہیں یا مہر میں کمی فاحش ہے اور ہنگام تزویج نشہ میں یا پہلے سے معروف بسوء اختیار تھا تو اس صورت میں نابالغہ کا نکاح اگرچہ بولایت پدری ہے اصلا صحیح نہیں۔درمختار میں بعدعبارت مذکورہ ہے:
|
وکذا لوکان سکران فزوجھا من فاسق او شریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیۃ الظھور سوء اختیارہ فلاتعارضہ شفقتہ المظنونۃ،بحر [1]۔ |
اور ایسے ہی اگرولی نے نشہ کی حالت میں فاسق یا شریر یا فقیر سے یا باعث ہتك کام والے سے نکاح کردے کیونکہ اس صورت میں اس ولی کا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنا ثابت ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں اس کی شفقت جوکہ ظنی ہے معارض نہیں بن سکتی بحر(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قلت ویقتضی التعلیل ان السکران او المعروف بسوء الاختیار لوزوجھا من کفوء بمھر المثل صح لعدم الضرر المحض(الی قولہ)وھذا مفقود فی السکران وسیئ الاختیار اذا خالف لظھور عدم رایہ وسوء اختیارہ |
میں کہتا ہوں کہ یہ عبارت تفصیل کو چاہتی ہے کہ اگر نشے والایا غلط اختیار کی شہرت والا اگر لڑکی کا نکاح کفو میں اور مہر مثل کے ساتھ کرے تو یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ اس میں لڑکی کے لیے کوئی ضرر نہیں ہے(ان کاکلام یہاں تك ہوا) کہ عدم ضرر کی صورت میں اس نشے والے اور غلط اختیار والے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع