30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غلام نہیں ہوسکتی،نہ خریدنے والا ان کا مالك ہوسکتاہے نہ کسی وجہ سے استحقاق ان میں رکھتا ہے کہ حُر کی بیع محض باطل ہے،ہدایہ میں ہے:
|
بیع المیتۃ والدم والحر باطل لانہا لیست اموالا فلاتکون محلا للبیع [1]۔ |
مردار،خون اور آزاد کی خرید وفروخت باطل ہے کیونکہ یہ چیزیں مال نہیں ہیں اس لئے یہ بیع کا محل نہیں۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:ۤ
|
الباطل لایفید ملك التصرف [2]۔ |
بیع باطل ملك تصرف کا فائدہ نہیں دیتی۔(ت) |
اورجبکہ وہ عورت بالغہ ہے تو اپنی جان کا آپ اختیار رکھتی ہے،نکاح کہ اس نے بہ ہدایت الہٰی زناسے تائب ہوکر ایك شریف مسلمان سے کرلیا قطعا صحیح ولازم ہے جو کسی کے روکے رد نہیں ہوسکتا،فتاوی عالمگیری میں ہے:
|
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلاولی [3]۔ |
حرہ عاقلہ بالغہ کا ولی کے بغیر اپنا نکاح صحیح ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
سئل شیخ الاسلام عطاء بن حمزۃ عن امرأۃ شافعیۃ بکر بالغۃ زوجت نفسھا من حنفی بغیر اذن ابیھا والاب لایرضٰی وردہ ھل یصح ھذا النکاح قال نعم ٤[4]۔ |
شیخ الاسلام عطاء بن حمزہ سے ایك باکرہ بالغہ شافعی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے اپنا نکاح بغیر ولی ایك حنفی مرد سے خود کیا،والد کی اجازت اور مرضی نہ تھی،اوروالد نے اس کے نکاح کو ردکردیا،تو یہ نکاح صحیح ہوگا ؟ تو انھوں نے جواب فرمایا: ہاں صحیح ہے۔(ت) |
جب خود باپ کی نسبت یہ حکم ہے تو نائکہ کا دعوی کیا قابل التفات ہوسکتا ہے،یہ محض جہل ناسزا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣١٦: از پیلی بھیت محلہ ملك احمد خاں مرسلہ حافظ بشیر احمد خاں صاحب ١٥ رجب ١٣١٠ھ
جناب عالی ! گزار ش یہ ہے کہ ایك لڑکی کا نکاح نابالغی میں باپ کی ولایت سے ہوا اب وہ لڑکی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع