30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی نہ ہوئی یا بعد خبر سکوت محض کیا یہاں تك کہ دختر بالغہ ہوئی تو اب وہ خود اجازت دختر پر موقوف ہوا،پس اگر دختر نے اس اظہار ناراضی سے پہلے بعد بلوغ کوئی کلمہ اجازت کہا یا دلالۃً اس کے کسی فعل یا حال سے رضامندی ثابت ہوئی تھی،مثلا بالغ ہونے پر شوہر کے پاس گئی یا اس سے کوئی برتاؤ زن وشوئی کا کیا یا کسی نے فلان کی دلہن کہہ کرپکار ا اس نے جواب دیا تو نکاح لازم ہوگیا اب ناراضی محض بے سود ہے اور اگر ہنوزقول یا فعل یا حال سے رضا ثابت نہ ہونے پائی تھی کہ اس نے ایسی ناراضی ظاہر کی جس سے ردنکاح مفہوم ہو اتو بے شك نکاح باطل ہوگیا۔
|
فی فتح القدیر یتوقف علی اجازۃ الولی فی حالۃ الصغر فلوبلغ قبل ان یخبرہ الولی فاجازہ بنفسہ نفذ لانھا کانت متوقفۃ ولاینفذ بمجرد بلوغہ [1]۔ |
فتح القدیر میں ہے نابالغ کے نکاح کا جواز ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا،اور اگر ولی کی طرف سے اطلاع سے قبل خود بالغ ہوگیا اوراس نے اپنے نکاح کو جائز کردیا تو جائز اور نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ اجازت پر موقوف تھا اور اجازت کے بغیر محض بلوغ سے نافذ نہ ہوگا۔(ت) |
مستفتی ان سب صورتوں کو سمجھ کر جو صورت واقعہ ہو اس کے حکم پر عمل کرے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣١٥: از رائے پور علاقہ جے پور ڈاك خانہ ہنڈون مرسلہ منشی محمد فرزند حسن صاحب ٢٠ ذی قعدہ ١٣٠٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك طوائف قوم مسلمان نے جس کی عمر تخمینًا ٢٨ یا ٢٩ سال ہوگی زناکاری سے توبہ کرکے ایك شریف مسلمان سے اپنا نکاح کرلیا،اب اس کی نائکہ کہتی ہے کہ میں ولی ہوں بے میری اجازت کے نکاح جائز نہیں،اور زید کہتاہے کہ طوائف خود فعل مختار بالغہ ہے تیری اجازت کی حاجت نہیں،اور ولی واسطے ہدایت کار نیك کے ہوتاہے زناکے لیے ولی نہیں،نابالغ کو ولی بھی فعل بد کرانے کا مختار نہیں،ایسی ولایت شرعا باطل ہے نائکہ کسی طرح ولی نہیں ہوسکتی،جو لونڈی اس نے حرام کی کمائی سے حرام کاری کے لیے خریدی وہ شرعًا لونڈی نہیں ہوسکتی بلکہ جو شرعا ایسی ولایت کادعوی کرے وہ قابل سزا ہے۔پس صحیح قول زید کا ہے یا نائکہ کا؟ بینوا تو جروا
الجواب:
قول زید کا صحیح ہے اور نائکہ کا محض دعوی باطل وقبیح۔ہندوستا ن میں جو بعض خدا ترس محتاج اپنی اولاد قحط وغیرہ میں بیچ ڈالتے ہیں شرعا یہ بیع کسی حالت میں جائز نہیں بلکہ باطل ومحض مہمل وبے معنی ہے وہ ہر گز لونڈی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع