30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عاقلہ کو غیر کفو میں نکاح کردیا تو اس وقت اجازت طلب کرنے پر یا معلوم ہونے پر لڑکی خاموش رہے تو کیا یہ اجازت ہوگی یا نہیں۔اس میں اختلاف ہے،بحر نے کہا کہ رضانہ ہوگی،بعض نے کہا کہ امام ابو حنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ کے ایك قول کے مطابق اگر نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا ہو تو سکوت اجازت قرار پائیگی ورنہ نہیں،جیساکہ خانیہ میں اس مسئلہ کو نابالغہ کو غیرکفو میں نکاح کردینے کے مسئلہ سے اخذ کیا ہے اھ نہر میں کہا کہ درایہ میں اس پر"قالوا"کے لفظ کہہ کر پہلے قول پر جزم کیا ہے،شامی کی عبارت ختم ہوئی،قلت:خانیہ میں اس کو مقدم ذکر کیا ہے اور وہ زیادہ ظاہر اور مشہور قول کو مقدم ذکر کرتے ہیں لیکن علماء نے فرمایا کہ یہاں خانیہ کا اس کو مقدم ذکر کرنا اس سے فراغت کے طور پر ہے ورنہ انھوں نے دوسرے قول کی مضبوط دلیل ذکرکی ہے جبکہ دلیل کو ذکرکرنا اعتماد کی دلیل ہے،محیط،مبسوط،جامع قاضی خاں پھر کافی شرح ہدایہ میں پھر تبیین کے حاشیہ میں اس کو امام اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کا قول بتایا ہے،اور کفایہ،کافی،درایہ،درر میں اس دوسرے قول کی تصحیح کی گئی ہے کیونکہ امام صاحب رضی الله تعالٰی عنہ کے مذہب میں باپ دادا اور غیر کے اقدام میں فرق ہے۔(ت) |
فیما اذا زوجہا غیر کفو فبلغھا فسکتت فقال لایکون رضا وقیل فی قول ابی حنیفۃ یکون رضا ان کان المزوج ابااوجدا وان کان غیرھما فلاکما فی الخانیہ اخذا من مسئلۃ الصغیرۃ المزوجۃ من غیر کفو اھ قال فی النھر وجزم فی الدرایۃ بالاول بلفظ قالوا[1] اھ مافی الشامی قلت وقدمہ فی الخانیۃ وھولا یقدم الا الاظھر الاشعر لکن قالوا یؤتی بہ للتبری وقد علل فی الخانیۃ للقول الثانی بتعلیل جلیل والتعلیل دلیل التعویل ونص فی المحیط والمبسوط وجامع قاضی خاں ثم الکافی شرح الھدایۃ ثم الشلبی علی التبیین انہ قول الامام وقد صحح فی الکفایۃ والکافی و الدرایۃ والدر التفرقۃ بین الاب والجد وغیرھما بناء علی مذہب الامام رضی اﷲ تعالٰی۔
|
اور بے اذن لیے ولی کا نکاح کردینا اگرچہ خلاف سنت ہے مگر گناہ نہیں،یوں ہی نکاح پڑھانے والے پر کوئی الزام نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ٣١٤: ٧ صفر ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نکاح لڑکی نابالغ کا جس کی عمر قریب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع