30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موقوف رہے گا جب تك کہ ان میں سے ایك واقع ہو مثلًا ہنوز عورت کو نکاح کی خبر ہی نہ ہوئی یا خبر دواجنبی فاسقوں یا ایك اجنبی مستورالحال نے دی اور عورت خاموش رہی یا خود ولی خواہ اس کے فرستادہ نے اطلاع دی،مگر عورت شوہر کو نہ پہچانتی تھی مگر جس سے اَب وجَد کے سوا اور ولی نے نکاح کردیا وہ کفو تھا یامہر مثل سےکمی فاحش کی تھی،توان سب صورتوں میں یہ خاموشی نہ اجازت ہوگی نہ رد،بلکہ عورت کو اختیار ہے گا چاہے جائز کردے خواہ باطل۔
|
اتقن ھذا التحریر فانك لاتجدہ بھذا التحبیر فی غیر ھذا التقریر والحمد ﷲ الھادی القدیر۔ |
اس تقریر کومحفوظ کرلو کہ اس مہارت سے کسی دوسری تقریر میں نہ پاؤگے،تمام محامد الله تعالٰی ہادی اکمل کے لئے ہیں۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لو بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ولذا استحسنوا التجدید عندالزفاف لان الغالب اظھار النفرۃ عند فجأۃ السماع ١ [1]اھ قال ط ای فیحتمل انھا نفرت من النکاح عند اعلامھا بہ فیبطل العقد ولایلحقہ الرضا ٢[2] اھ قلت فاذا تبین ذلك کان ردا محققا کمالا یخفی وفی الدر ایضا زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ او فضولی عدل فسکتت فھو
|
اگر لڑکی کو نکاح کی خبر پہنچی تو اسے رد کردیا پھر کہتی ہے میں راضی ہوں تو اس سے وہ نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ رد کردینے پر وہ باطل ہوچکا ہے،اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا کہ(جب لڑکی سے پہلے اجازت لئے بغیر نکاح کیا ہو جس کو وہ بعد میں جائز قرار دے)ایسی صورت میں بہتر ہے کہ زفاف کے وقت نکاح کی تجدید کرلی جائے کیونکہ عام طور پر ایسی صورت میں اچانك نکاح کے متعلق سن کر لڑکی نفرت کا اظہار کردیتی ہے اھ،طحطاوی نے فرمایا کہ اس احتمال کی بناپر کہ نکاح باطل کی خبر پاکر لڑکی نے بطور نفرت ردکردیا ہو تو نکاح باطل ہوجائے گا جو بعد میں اظہار رضامندی سے جائز نہ ہوگا اھ قلت: اگریہ بات ثابت ہوجائے تو پھر یقینی طورپر وہ نکاح مردود ہوگا جیسا کہ واضح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع