30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہتی ہے جس سے اس کے ماں باپ ہندہ سے اس امر پر راضی نہیں اب اگر ہندہ ناراضی والدین گوارا کرکے اپنا نکاح کرلے تو آیا یہ نکاح شرعا درست ہوگا یا نادرست؟ بینوا تو جروا
الجواب:
اگر وہ شخص جس سے ہندہ بہ ناراضی پدر اپنا نکاح بطور خود کیاچاہتی ہے ہندہ کا کفو ہے یعنی اس کی قوم یا پیشہ یا مذہب وغیرہا میں بہ نسبت ہندہ کے کوئی ایسا قصور وعیب نہیں جس کی وجہ سے ہندہ کا اس کی مناکحت میں آنا پدرہندہ کے لئے موجب عار ہو تو بلاشبہ نکاح صحیح ودرست ہوجائے گا اور والدین کی ناراضی اگرچہ ہندہ کو نقصان کرے مگر جواز نکاح میں خلل نہ آئے گا۔
|
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الایم احق بنفسھا من ولیھا[1] رواہ الائمۃ مالك واحمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وغیرھم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بالغ لڑکی اپنے ولی کے مقابلہ میں اپنے بارے میں فیصلہ کی زیادہ حقدار ہے،اس کو امام احمد،مالک،مسلم، ابوداؤد،ترمذی، نسائی، ابن ماجہ وغیرہم نے حضرت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا [2](ملخصًا)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عاقلہ بالغہ حرہ عورت کا اپنا نکاح ولی کی رضامندی کے بغیر بھی جائز ہے،اور غیر کفو میں کیا تو بالکل ناجائز ہونے کا فتوی دیا جائے گا،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣١١: ٥ ذی الحجہ١٣٠٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور زید کی اہلیہ نے انتقال کیا،دوبیٹیاں چھوڑیں،اورلڑکیوں کا کوئی وارث سوا ایك ماموں حقیقی کے کوئی نہ تھا،ماموں نے ایك لڑکی جس کی عمر تخمینًا سات برس کی تھی اس کانکاح اپنے بیٹے کے ساتھ کردیا جس کو اب عرصہ آٹھ برس کا ہوا،اور دوسری بڑی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کردیا،اب بڑی دختر باغوا اپنے شوہر کے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو بہکاتی ہے کہ تو کہہ دے کہ میری نابالغی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع