30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور نکاح فضولی بے اجازت نافذ نہیں ہوتا۔پس اگر لیلٰی کے باپ نے ردکیا تو جبھی رد ہوگیا اور اگر نہ رد کیا نہ اجازت دی اور لیلٰی نے بالغہ ہوکر فسخ کردیا تو اب فسخ ہوگیا۔
|
فی ردالمحتار فی فصل الفضولی عن جامع الفصولین یتوقف علی اجازۃ ولیہ مادام صبیا ولو بلغ قبل اجازۃ ولیہ فاجازبنفسہ جاز ولم یجز بنفس البلوغ بلااجازۃ ١[1]۔ |
ردالمحتار میں ہے فضولی کے بیان میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ جب تك نابالغ ہے اس کانکاح اس کے ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔اور اگر ولی کی اجازت سے قبل وہ بالغ ہوگیا تو اس نے اپنے نکاح کوجائز قرار دیا تو جائز ہوجائے گا،اس کے جائز کئے بغیر محض بالغ ہونے پر جائز نہ ہوگا۔(ت) |
پس لیلٰی کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔والله تعالٰی اعلم۔
|
واعلم ان غیبۃ بکر لم تکن منقطعۃ حتی تنتقل الولایۃ الی الاخ فیکون تزویجہ ایاھا صحیحا نافذا ولو غیر لا زم فلا ینفسخ بمجرد فسخھا بل تحتاج فیہ الی حکم القاضی کما فی الھدایۃ والدر[2] وغیرھما من الاسفار الغراء علی ما اختارہ واکثر المتاخرین وجزم بہ فی التنویر وغیرہ،وقال فی التبیین ان علیہ الفتوی [3]وھو التقدیر بمسافۃ القصر فالامرواضح واما علی مااختارہ اکثر المشائخ وقال السرخسی ومحمد بن الفضل واصحاب الذخیرۃ والمجتبٰی والبحر انہ الاصح [4] وصاحب |
واضح رہے کہ یہاں بکر کا غائب ہونا ایسا نہیں جس سے اس کی ولایت منقطع ہوکر لڑکی کے بھائی کو منتقل ہوجائے کہ اس کاکیا ہوا نکاح صحیح اور نافذ ہوتا اگرچہ لازم نہ ہوتا۔ محض لڑکی کے فسخ کرنے سے فسخ نہ ہوتا بلکہ قاضی کے فیصلہ کی ضرورت ہوتی، جیساکہ ہدایہ،در وغیرہما معتبر کتب میں ہے،لیکن جس کو اکثر متاخرین نے اختیار کیا ہے اور اس پر تنویر وغیرہ میں جز م کیا ہے،ور تبیین میں کہا کہ اس پرفتوی ہے وہ یہ کہ نماز کو قصر کرنے کی مسافت یعنی مسافت سفرپر دور ہو،تو اس قول پر معاملہ واضح ہے،اور وہ جس کو اکثر مشائخ نے جس کے متعلق سرخسی اور محمد بن فضل،ذخیرہ، مجتبٰی اور بحر کے مصنفین نے فرمایا کہ یہ اصح ہے اور صاحب ہدایہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع