30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب پدر لیلٰی آیا خبر سن کر سخت ناراض ہوا،اور دختر کو سسرال سے بلا لیا اور پھر نہ جانے دیا،اس پر سات برس کا زمانہ گزرا کہ لیلٰی بالغہ ہوگئی مگر زید ہنوز نابالغ ہے لیلٰی نے بالغہ ہوتے ہی فورا اس نکاح سے انکار کردیا اور دوسری جگہ اپنانکاح کیا چاہتی ہے اس صورت میں نکاح اول فسخ ہو ا اور لیلٰی کو نکاح ثانی کا اختیار ملا یا نہیں؟ بینوا توجروا(بیان کیجئے اور اجر پائیے۔ت)
الجواب:
چند روز ہوئے کہ یہ مسئلہ سائل کی طرف مقابل یعنی پدر زیدنے فقیر سے دریافت کیا اور اس میں صورت سوال بالکل اس کے خلاف تھی،اس نے ظاہر کیا تھاکہ پدر لیلٰی اس کے نکاح کی اجازت خالد پسر جوان کو اسی زید کے ساتھ دے گیا تھا اور چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور لیلٰی برسوں آئی گئی،ان سات برس کے بعد کہتاہے میں راضی نہیں۔اس پر فقیر نے لکھا تھا کہ مضمون مذکور ثابت ہو تو بیشك نکاح صحیح ولازم ہوگیا جسے کوئی فسخ نہیں کرسکتا،اب پدر لیلٰی یہ شکل اختیار کرتاہے اور اس کے ساتھ چند کسان برادری جو اپنے آپ کو فریقین کا رشتہ دار قریب بتاتے ہیں بقسم اس بیان بکر کی تائید کرتے ہیں۔غرض علم واقع حق وعلا کو ہے،اگر یہ لوگ سچے ہیں اور صورت سوال یونہی ہے جویہ کہتے ہیں کہ نکاح برخلاف اجازت پدر ہوا تو اگر اس نے ناراضی میں اس نکاح کے رد کرنے کا کوئی لفظ کہا تونکاح اسی وقت فسخ ہوگیا اور اگر کوئی ایسالفظ نہ کہا اور نہ اس پر راضی ہوا نہ ا س نے کبھی رخصت کی اور لیلٰی نے بالغہ ہوکر انکار کردیا تو اب نکاح فسخ ہوگیا کہ برادر لیلٰی کو جب پدر لیلٰی نے خاص عمرو کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دی تھی تو اسے بتوکیل پدر اس قدر کا اختیار تھا کہ اب اس نے مخالفت کرکے زید سے نکاح کردیا۔یہ نکاح نکاح فضولی ٹھہرا،درمختارمیں ہے:
|
اجمعوا انہ لم یجز کمالو امرہ بمعینۃ فخالف [1] اھ ملخصا یعنی الوکیل بالنکاح۔ |
فقہاء کا اجماع ہے کہ اگر معینہ عورت سے نکاح کا کہاا ور وکیل نے اس کے خلاف کیا تو یہ جائز نہ ہوگا اھ ملخصا(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:فی
|
کل موضع لاینفذ فعل الوکیل فالعقد موقوف علی اجازۃ المؤکل [2]۔ |
جہاں پر وکیل کا عمل نافذنہ ہوگا وہاں وہ عمل موکل کی اجازت پرموقوف ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع