30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٣٠٧: ١٢جمادی الآخرہ ١٣٠٥ ہجری قدسی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صغیرہ کا باپ اس کے نکاح کی زید کے ساتھ اپنے پسر جوان کو اجازت دے کر اپنی نوکری کے مقام پر کہ وہاں سے سات آٹھ کوس ہے چلا گیا،اس کے پیچھے وہ نکاح ہوا،رخصت کے بعد باپ آیا،چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور برسوں آئی گئی،اب سات برس کے بعد باپ کہتا ہے میں اس نکاح سے راضی نہیں،اس صورت میں باپ یا اس صغیرہ کو بلوغ حق فسخ نکاح پہنچتا ہے یا نہیں؟ اور وہ نکاح کہ بھائی نے کیا صحیح ہوا یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب:
جبکہ ثابت ہو کہ پدر صغیرہ نے اپنے پسر جوان کو دختر نابالغہ کے نکاح کی زید کے ساتھ اجازت دی اور وہ نکاح حسب اجازت واقع ہوا تو اب اسے نہ پدر صغیرہ خود فسخ کرسکے نہ صغیرہ بعد بلوغ اس کا اختیار فسخ رکھے،بلکہ وہ نکاح قطعا صحیح ونافذ ولازم ہوگیا۔
|
فان الاذن توکیل وفعل الوکیل کفعل المؤکل ومن سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ۔ |
وکیل کو اجازت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فعل کو مؤکل کا فعل قرار دیا جائے گا لہذا وکیل کی طرف سے تمام شدہ کارروائی کو کالعدم قرار دینے والے کی کوشش کو ردکردیا جائے گا۔(ت) |
تنویر میں ہے:
|
لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی ابااوجدا [1] الخ۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اگر باپ یا دادا نکاح کرنے والا ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کے باوجود نکاح لازم ونافذ ہوگا۔والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ٣٠٨: ٣ رجب المرجب ١٣٠٥ ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلٰی کا باپ بکر اس کا نکاح عمرو کفو کے ساتھ کردینے کی اجازت اپنے جوان بیٹے خالد کو دے کر بریلی سے اپنی نوکری پر بیسل پور کہ یہاں سے بیس کوس ہے چلا گیا،خالد برادر وہندہ مادر لیلٰی کو عمرو سے نکاح منظور نہ تھا ان کی مرضی زید کے ساتھ نکاح میں تھی کہ وہ بھی مثل عمروآپس اوربرادری ہی کاہے لہذا برخلاف اجازت بکر مادر وبرادر لیلٰی نے جلدی کرکے لیلٰی نابالغہ دہ سالہ کا نکاح زید نابالغ ہفت سالہ سے کردیا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع