30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ [1]۔ |
نکاح میں ولی عصبہ بنفسہٖ ہوتاہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
فان لم یکن عصبۃ فالولا یۃ للام [2]۔ |
اگر عصبہ موجود نہ ہو تو پھر ماں کو ولایت ہوگی۔(ت) |
فتاوی خیریہ میں ہے:
|
الام لاتملك تزویج ابنھا مع العم [3]۔ |
والدہ کی بیٹی کے چچا کی موجودگی میں ولایت نہیں۔(ت) |
فتاوی خانیہ میں ہے:
|
الفسق لایمنع الولایۃ [4]۔ |
فسق،ولایت کے لیے مانع نہیں ہے۔(ت) |
پس وہ نکاح کہ بے اجازت چچاکے ہوا اس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔اگر رد کردے باطل ہوجائے گا۔مجمع الانہرمیں ہے:
|
وقف تزویج فضولی وھو من لم یکن ولیا ولااصیلا ولاوکیلا علی اجازۃ من لہ العقد فان اجاز ینعقد والالا [5]۔ |
جو شخص ولی،اصیل اور وکیل نہ ہو وہ فضولی ہوتاہے جس کا کیاہوا نکاح ولایت والے کی اجاز ت پر موقوف رہتا ہے،اگر وہ جائز کردے تو جائز،ورنہ ناجائز ہوگا۔(ت) |
اور اجازت دے تو نافذ ہوجائے گا بشرطیکہ جس شخص کے ساتھ نکاح ہوا وہ اس دختر کا کفو ہو اورا س کے مہر میں کمی فاحش نہ کی گئی ہو۔ورنہ اگر کفو نہیں یا مہر میں ایسی کمی ہے تو نکاح اصلًا وجہ صحت نہیں رکھتا۔نہ چچا وغیرہ ان اولیاء کی اجازت سے نافذہوسکے کہ ایسا نکاح اگر خود چچا کے ہاتھوں کا کیاہو تا تاہم باطل ہوتا پھر اس کے جائز کئے نفاذ کیونکر پاسکتا ہے۔ درمختار میں ہے:
|
ان کان المزوج غیرالاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا [6] اھ ملخصا |
نکاح کرنے والا باپ یا دادا نہ ہو اگرچہ ماں ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
[1] درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مجتبائی دہلی ١/١٩٣
[2] درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مجتبائی دہلی ١/١٩٣
[3] فتاوی خیریہ کتاب النکاح باب الاولیاء دارالمعرفۃ بیروت ١/٢٤
[4] فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء نولکشور لکھنو ١/١٦٣
[5] مجمع الانہر فصل فی تزویج الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ١/٣٤٣
[6] درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع