30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
لابد فی کل منھما من سن المراھقۃ واقلہ للاثنی تسع وللذکر اثنا عشر لان ذلك اقل مدۃ یمکن فیھا البلوغ کماصرحوا بہ فی باب بلوغ الغلام وھذا یوافق مامران العلۃ ھی الوطء الذی یکون سببا للولد،والمس الذی یکون سببًا لھذا الوطء ولایخفی ان غیر المراھق منھما لایتأتی منہ الولد ١[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مردو عورت دونوں کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کم از کم مراہق کی عمر میں ہوں،اور مراہق کی عمر لڑکی کے لیے کم از کم نو سال اور لڑکے کے لیے بارہ سال،کیونکہ یہ وہ کم از کم عمر ہے جس میں بلوغ ہوتا ہے جیسا کہ فقہاء نے لڑکے کے بلوغ کے متعلق تصریح فرمائی ہے اور یہ بیان گزشتہ اس بیان کے موافق ہے کہ حرمت مصاہرہ کی علت وہ وطی ہے جو بچے کا سبب بن سکے اور وہ مس جو اس وطی کا سبب بن سکے،اور یہ ظاہر ہے کہ مراہق سے کم عمروالے کی وطی بچے کا سبب نہیں ہوتی،(ت)والله تعالٰی اعلم۔ |
_____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع