30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جمتا ہے تو عورت اس پر حرام نہ ہوئی لان الاقرار حجۃ قاصرۃ لاتعد والمقر(کیونکہ اقرار کمزور دلیل ہے اس لیے مقر کا غیر اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ت)پھر جن صورتوں میں عورت اس پر حرام مانی جائے گی ہمیشہ کے لیے حرام ہوگی،کسی طرح ان باپ بیٹوں کے لیے حلال نہیں ہوسکتی مگر ہنوز طلاق نہ ہوئی،عمرو پرفرض ہوگا کہ اسے چھوڑدے اور اس کے چھوڑنے کے بعد عورت پر عدت لازم ہوگی،بعد عدت کسی تیسرے سے نکاح کرسکے گی،درمختار میں ہے:
|
وبحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باٰخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ [1]۔ |
حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی حتی کہ دوسرے شخص سے نکاح،متارکہ اوراس کے بعد عدت گزرجانے کے بغیر جائز نہیں۔(ت) |
اگر بصورت حرمت عمرو عورت کو رکھے تو مسلمان اس سے میل جول چھوڑ دیں مگر جرمانہ لینا حرام ہے اور اسے مسجد میں صرف کرنا اور دیوبندیوں سے فتوی پوچھنا حرام اوران کے فتوی پرعمل کرنا حرام،اور انھیں مولٰنا یا نورالله مرقدہ کہنا حرام،تمام علماء کرام حرمین شریفین نے شان الوہیت وشان رسالت میں ان کی سخت گستاخیوں کے سبب ان کی تکفیر پر اتفاق کیا اور حسام الحرمین میں فرمایا:من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر [2]یعنی جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ بھی کافر۔والعیاذ باﷲ۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٩٨ تا ٣٠٠: مسئولہ مولانا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی مورخہ ٨ شعبان المعظم ١٣٣٨ھ
(١)ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد ہے۔ت)مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مہدی،مسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی والہام ماننے والے مسلمان ہیں یا خارج ازاسلام اور مرتد۔
(٢)بہ شکل ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیر مسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعا درست ہے یانہیں؟
(٣)بہ صورت ثانیہ جس عورت کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے ان عورات کو اختیار حاصل ہے کہ بغیر طلاق لیے اور بلاعدت کسی مرد مسلم سے نکاح کرلیں۔بینوا آجرکم الله تعالٰی
الجواب:
(١)لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کاجو قائل ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع