30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایحل لہا التزوج باٰخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جب تك متارکہ اور عدت پوری نہ ہوجائے کسی دوسرے کے لیے حلال نہ ہوگی۔والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٢٩٧: از سواوالہ ڈاك خانہ ریڑھ ضلع بجنور مسئولہ حکیم عبدالرحمان ٥ شوال ١٣٣٩ھ
ما قولکم رحمکم اﷲ(الله آپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ت)کہ زید نے اپنے لڑکے عمرو کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا یا زنا کی نیت کی جس کا اقرار دونوں کرتے ہیں،اس صور ت میں یہ عورت عمرو کی مطلقہ ہوگئی یانہیں؟ اور کون سی طلاق واقع ہوئی؟ عدت بھی ہوگی یا نہیں؟ عمروکے لیے یہ عورت کسی طرح پھر بھی حلال ہوسکتی ہے یا نہیں؟ وقوع زنا،نیت زنا،دواعی زنا،تینوں میں کچھ فرق ہوگا یا نہیں؟ بینوا تو جروا
یہی استفتاء اس سے قبل مولانا عزیز الرحمن صاحب مفتی دیوبند کی خدمت میں ارسال کیاتھا جس کے جواب میں بوجہ انتقال مولانا محمود الحسن صاحب نورالله مرقدہ انھوں نے یہ مختصر جواب دیا تھا کہ:"اگرعمرو اس کا مقر نہیں ہے تو اس کے حق میں اس کی عورت حرام نہیں ہوئی"انتہی چونکہ یہ فیصلہ بروئے پنچایت برادری طے ہونے والا ہے اس لیے ضروری ہے کہ کل مسئول عنہا امور کا جواب دیکھنے پر اگر حکم ہو تو برادری میں ان سے انقطاع یا حقہ پانی بند کی سزائے مروج دے سکتے ہیں یا نہیں؟ یا محض ان سے جرمانہ وصول کرکے غربا ومساکین کی دعوت کرائی جائے اور وہ جرمانہ مسجدیا اور کسی نیك کام میں صرف کیا جاسکتاہے یا نہیں؟
الجواب:
محض نیت زنا سے کچھ نہیں ہوتا او ربیٹے پر اس کی زوجہ حرام ابدی ہونے کے لیے صرف دواعی بھی کافی ہیں۔اگر عمرو کے قلب پر ان کا صدق جمتا ہے تو لازم ہے کہ وہ عورت کو اپنے اوپر حرام سمجھے،
|
فان التحری من دلائل الشرع وقول فاسق معتبراذا وقع التحری علٰی صدقہ۔ |
کیونکہ تحری(سوچ کے بعدفیصلہ)شرعی دلائل میں سے ہے اور فاسق کا قول تحری سے تصدیق کے بعد معتبر قرار پاتا ہے۔(ت) |
یونہی اگر عمرو نے ان کی تصدیق کی توعورت کی حرمت ابدی کا حکم ہے لان الاقرار حجۃ ملزمۃ(کیونکہ اقرار اپنے اوپر لازم کرنے کے لیے دلیل ہے۔ت)اور اگر نہ اس نے ان کی تصدیق کی نہ اس کے قلب پر ان کا صدق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع