30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے نہ مرتد سے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
|
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد،کذافی المبسوط [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مرتد کو کسی مرتدہ،مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں،مبسوط میں یونہی ہے۔(ت)والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٢٩٦: از بنگالہ مدرسہ معین الاسلام ڈاك خانہ جنگل آباد اہل موضع کادکا کسی ضلع جسر مسئولہ عبدالصمد صاحب ٢٨ رمضان ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے اپنے بیٹے کی بی بی یعنی اپنی بہو سے زنا کیا اب وہ بی بی مذکورہ کواپنے شوہر کے لیے حلال رہے گی یا نہیں؟ اور وہ دونوں کے درمیان نکاح باقی رہے گا یا طلاق ہوگئی؟ اگر طلاق ہوگئی تو کس قسم کی؟ اور علت طلاق ہونے کی کیا ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:
لوگ اپنی طرف سے خیالات باطلہ باندھ لیتے یا فقط دو ایك شخصوں یا صرف عورت کے کہنے پر اتہام لگاتے ہیں اس کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ شہادت عادلہ شرعیہ ہو یا شوہر تصدیق کرے اس وقت حرمت کا حکم دیا جائے گا۔عورت ہمیشہ کے لیے اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی کہ اس کے باپ کی مدخولہ ہوگئی اور باپ کی مدخولہ بیٹے پر حرام ابدی ہے،قال تعالٰی: وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ [2](جن سے تمھارے باپ نکاح کرلیں تم ان سے نکاح نہ کرو۔ت) مگر طلاق نہ ہوئی،نہ نکاح سے خارج ہوئی جب تك شوہر متارکہ نہ کرے،مثلا اس سے کہے میں نے تجھے چھوڑ دیا یا جدا کیا،جب یہ کہے گا اور عدت گزر جائے گی اس وقت عورت کسی تیسرے شخص سے نکاح کرسکے گی،ان دونوں باپ بیٹوں پر تو ہمیشہ کے لیے حرام ہے، شوہر پر فرض ہے کہ اسے متارکہ کردے کہ اب اسے رکھ نہیں سکتا تو چھوڑ نا لازم۔قال تعالٰی: فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ[3](تو ہمدردی سے پاس رکھو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔ت) درمختار میں ہے:
|
وبحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی |
حرمت مصاہرہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا حتی کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع