30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
مرزائی مرتد ہیں کما ھو مبین فی حسام الحرمین(جیساکہ حسام الحرمین میں واضح بیان کیا گیا ہے۔ت)اور مرتد مردہو یاعورت ا س کا نکاح کسی مسلمان یا کافر اصلی یا مرتد غرض انسان یا حیوان جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا۔ جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا۔عالمگیری میں ہے:
|
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احدکذافی المبسوط [1]۔ |
مرتد کے لیے مرتدہ،مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں،اور اس طرح مرتدہ عورت کا بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں،جیسا کہ مبسوط میں ہے۔(ت) |
عورت اگرچہ نابالغہ ہے سال دوسال کی ناعاقلہ بچی نہ ہوگی اور عقل وتمیز کے بعد اسلام وارتداد صحیح ہیں۔
تنویر الابصار میں ہے:
|
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامہ ٢[2]۔ |
بچہ اگر مرتدہوجائے تو اس کا ارتداد صحیح ہے جیسے اس کا اسلام لانا صحیح ہے۔(ت) |
سمجھ وال ہونے کی حالت میں اگر اس نے مرزائیت قبول کی یا اتناہی جانا کہ مرزا نبی یا مسیح یا مہدی تھا تو اسی قدر اس کے مرتدہ ہونے کو بس ہے،تجربہ ہے کہ یہ مرتد لوگ بچپن سے اپنی اولاد کو اپنے عقائد کفریہ سکھاتے ہیں تو سائل کا کہنا کہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے بعید از قیاس ہے۔پھر ان لوگوں میں سے ایسی قرابت قریبہ رکھنا بارہا منجربہ فتنہ وفساد مذہب ہوتاہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی،تو سلامتی اسی میں ہے کہ اس کو فورا جدا کردیا جائے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٨٩: از ریاست فرید کوٹ کوٹھی ملیر گنج مسئولہ علیم الدین صاحب فراش ٨ رمضان ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ غیر مقلدوں کے ساتھ تعلقات رکھنا اور ان کے ساتھ رشتہ ناتا اپنے لڑکے لڑکی کا جائز ہے یا حرام؟ اور اگر حرام ہے تو حنفی المذہب اپنی لڑکی کو کسی طور سے واپس لے سکتا ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:
غیر مقلدوں سے میل جول حرام ہے اور ان سے مناکحت ناجائز کما بیناہ فی رسالتنا ازالۃ العار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع