30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نساء الآباء والاجداد من جہۃ الاب والام وان علوا کذافی الحاوی القدسی[1]۔ |
ماں باپ کی طرف سے سگے باپ دادوں کی بیویاں اگرچہ یہ باپ دادے اوپرتك ہوں،حاوی القدسی میں ایسے ہی ہے۔(ت) |
پھر لکھا:
|
المحرمات بالرضاع کل من تحرم بالقرابۃ و الصھریہ کذافی محیط للسرخسی ٢[2]۔ |
رضاعی محرمات وہ تمام جو قرابت اور نکاح سے حرام ہوتے ہیں۔محیط سرخسی میں یوں ہی ہے۔(ت) |
تبیین الحقائق میں ہے:
|
لایجوز لہ ان یتزوج بامہ ولابموطوۃ ابیہ ولاببنت امرأتہ کل ذٰلك من الرضاع [3]۔ |
اس کو یہ جائز نہیں کہ وہ ماں،باپ کی وطی کردہ(بیوی)اور اپنی بیوی کی بیٹی ان رضاعی رشتوں سے نکاح کرے۔(ت) |
غرض فقیر نے نہ دیکھا کہ اس شعر کا ایضاح کسی نے کیا ہو۔اور اہل زمانہ کو اس کی فہم میں دقتیں بلکہ سخت لغزشیں ہوتی ہیں لہذا بقدرحاجت اس کی شرح کردینی مناسب۔
فاقول: وباﷲ التوفیق(پس میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالٰی سے ہے۔ت)اصل علت حرمت جزئیت ہے کہ نسب میں ظاہر اور رضاع میں کراہت انسان کے لیے شرع کریم نے معتبر فرمائی اور عرف میں بھی معروف ومشتہر ہوئی جس کے لحاظ سے" وَاُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیۡۤ اَرْضَعْنَکُمْ "فرمایا،اور زوجیت کا مرجع بھی جانب جزئیت ہے کما حققہ فی الھدایہ والکافی والتبیین وغیرھا(جیساکہ ہدایہ،کافی اور تبیین وغیرہ میں تحقیق ہے۔ت)مگر زوجیت میں اس کا تحقق نہایت غموض میں ہے کہ مدارك عامہ اس تك وصول سے قاصر،لہذا صاحب ضابطہ نے شعر میں دو علاقے رکھے،ایك زوجیت دوسرا جزئیت،عام ازیں کہ یہ نسبًا ہو یا رضاعًا،پھر دو۲ شخصوں میں علاقہ جزئیت کی دوصورتیں ہیں: ایك یہ کہ ان میں ایك دوسرے کا جز ہو،دوسرے یہ کہ دونوں تیسرے کے جزہوں،صورت اولٰی میں دو قسمیں پیدا ہوئیں،اصول،جن کا تو جز ہے یعنی باپ،دادا،نانا،ماں،دادی،نانی جہاں تك بلند ہوں نسبًا خواہ رضاعًا،اور فروع جو تیرے جز میں ہیں یعنی بیٹا،پوتا، نواسا،بیٹی،پوتی،نواسی جہاں تك نیچے جائیں،اور صورت ثانیہ میں تین صورتیں ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع