30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متاخر لکھنوی صاحب نے بھی عمدۃ الرعایہ میں نِرے ترجمہ پر قناعت کی،فقط ایك حرف زائد کیا وہ بھی غلط۔
|
حیث قال مفادالمصرع الاول ان من جانب المرضعۃ وکذا زوجھا یکون الکل ذاقرابۃ من الرضیع ای الذین لھم قرابۃ محرمۃ من النسب فیدخل فیہ المرضعۃ وزوجھا واقرباؤھما ومفاد المصرع الثانی ان من جانب الرضیع انما یثبت القرابۃ للمرضعۃ وزوجھا من فروعہ واحد زوجیۃ [1] انتھی۔ |
انھوں نے یوں کہا پہلے مصرع کا مفادیہ ہے کہ دودھ پلانے والی اور اس کے خاوند کی جانب سے تمام رشتے دودھ پینے والے کے قریبی ہوں گے یعنی ان کے وہ رشتے جو نسبی طورپر حرام ہوتے ہیں،تو اس میں دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند اوران دونوں کے اقرباء داخل ہوں گے،اور دوسرے مصرع کا مفاد یہ ہے کہ دودھ پینے والے کی جانب سے دودھ پلانے والی اور اس کے زوج پر تمام فروع اوراس کے زوج یا زوجہ کی قرابت ثابت ہوگی،انتہی(ت) |
ظاہر ہے یہ محض ترجمہ ہے،صرف اتنا زائد ہے کہ ہمہ سے مراد محارم نسبی ہیں،یہ غلط ہے کہ ماں باپ کے جتنے علاقہ والے اولاد پر حرام ہوتے ہیں نسبی ہوں خواہ رضاعی صہری،وہ خود ماں باپ کے محارم ہوں یا نہ ہوں۔جہاں جہاں معنی محرم فی النسب موجود ہو سب مراد ہیں،مثلًا رضاعی ماں باپ کے رضاعی ماں باپ بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسا نواسی رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم رضاعی ہیں نہ کہ نسبی،یوں ہی رضاعی ماں باپ کے سوتیلے ماں باپ رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ رضیع کے رضاعی نانا دادا کی بیبیاں ہیں اور رضیعہ کے رضاعی نانی دادی کے شوہر حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم صہری ہیں نہ کہ نسبی،یونہی رضاعی باپ کے دوسری بی بی رضاعی ماں کا دوسرا شوہر رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ ان کے سوتیلے ماں باپ ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم ہی نہیں بلکہ حلیل وحلیلہ ہیں،تو قرابت محرمہ اور نسبیہ دونوں قیدیں غلط ہیں بلکہ سرے سے لفظ قرابت ہی ٹھیك نہیں کہ مصرع اول میں لفظ ھمہ مرضع کے زوجین کو بھی یقینا شامل،اور زوجیت داخل قرابت نہیں،تفسیر نیشاپوری میں ہے:
|
امك من الرضاع کل انثی ارضعتك اوارضعت من ارضعتك [2]۔ |
تیری رضاعی ماں سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ عورت جس نے تجھے یا تیری رضاعی ماں کو دودھ پلایا ہو(ت) |
ہندیہ میں ہے:
|
المحرمات بالصھریۃ اربع فرق،الرابعۃ |
نکاح کی وجہ سے محرمات کے چار گروہ ہیں،چوتھا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع